خطبات محمود (جلد 9) — Page 386
386 طب یہ بھی نہیں بتا سکتی کہ فلاں دوائی قطعی اور یقینی طور پر فلاں مرض کے لئے مفید ہے۔کیونکہ یہ ہر روز مشاہدہ میں آتا ہے کہ ایک دوائی ایک مریض کو فائدہ دیتی ہے اور دوسرے کو فائدہ نہیں دیتی۔پس شریعت کی مثال طب کی سی ہے۔صرف اس کے ہونے سے کوئی شخص ایک مقام سے دوسرے مقام تک ترقی نہیں کر سکتا۔شریعت صرف اعمال کے متعلق امر و نہی کرتی ہے اور یہ روحانی حالات ہیں اور روح چونکہ پوشیدہ ہے۔اس لئے اس نے خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اب یہ مرض ہے اور اب اس کی دوا کی ضرورت ہے اور یہ وہ بات ہے جو انسانی عقل میں نہیں آسکتی۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کشف کے ذریعے یہ بات بتا دے یا کسی کی ذات میں ہی کوئی بات ایسی پیدا ہو جائے ورنہ صرف شریعت اس معاملہ میں کچھ نہیں کر سکتی۔بعض لوگ جو اهدنا الصراط المستقیم کے اس نکتہ کو نہیں سمجھتے۔وہ بڑے سے بڑے مقام پر پہنچ کر بھی گر جاتے ہیں۔بعض دفعہ ان کا قدم اتفاقی طور پر کسی ایسے مقام پر جا پڑتا ہے۔جو درست ہوتا ہے اور وہ ترقی کرنی شروع کر دیتے ہیں۔اس سے وہ غرور میں آجاتے ہیں کہ ہمیں اس نکتہ کا پتہ لگ گیا اور پھر وہ دھو کہ میں پڑ جاتے ہیں کہ اب کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ایسا شخص اهلنا الصراط المستقیم پڑھتا تو ہے لیکن صحیح مفہوم کے ساتھ نہیں پڑھتا۔اس لئے وہ کسی اچھے مقام پر پہنچ کر بھی گر پڑتا ہے۔مومن کو چاہئے کہ ہر مقام پر گریہ وزاری کرے اور ہر منٹ اور ہر لحظہ اور ہر حالت میں گریہ و زاری کرکے کے کہ اے خدا تو آپ ہی ہمیں صراط المستقیم دکھا۔پس ہر ایک کو چاہئے کہ وہ غرور نہ کرے اور نہ دھوکہ کھائے کہ اب مدد کی ضرورت نہیں بلکہ گریہ وزاری کرے اور خدا ہی سے مدد طلب کرے اور جب وہ ایسا کرتا ہے۔تب جا کر خدا اسے ہدایت دیتا ہے۔بعض لوگ اپنی عقل سے دینی امور کو طے کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا۔اپنے فہم و فراست سے قرب خدا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔یہاں عقل کچھ نہیں کر سکتی۔علم کچھ نہیں کر سکتا۔فلسفہ کچھ نہیں کر سکتا بلکہ خالی شریعت بھی کچھ نہیں کر سکتی ہے اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرنے سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ہاں اگر خدا کے آگے انسان گریہ وزاری کرے اور اس کے آگے روئے کہ تو ہی بتا کہ کس طرح عقل سے کام لوں۔کس طرح علم سے کام لوں۔کس طرح شریعت سے استنباط کروں۔تب وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ایسے شخص کی رہنمائی فرماتا ہے اور اسے صراط المستقیم پر چلاتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دینی مسائل میں استدلال کرتے ہوئے اس بات