خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 355

355 ہو کر اس شرک کو بھی مٹاتے جو زمین پر ہو رہا تھا اور شرک کی اس کڑی کو بھی توڑتے جسے لوگوں نے آسمان تک پہنچا دیا تھا مگر انہوں نے خود ایسا نہیں کیا اور جو کام ان سے رہ گیا اور ہم نے کیا۔اس کی وجہ سے وہ ہمارے دشمن بن گئے۔چنانچہ آج بھی اہلحدیث یا اہلحدیث نما ہی ہمارے سب سے زیادہ دشمن ہیں۔دیو بندی جو کچھ ہمارے برخلاف کر رہے ہیں وہ ان کو خود معلوم ہے اور ایسا ہی ان کے دوسرے ہم خیال اشخاص کی طرف سے جو سلوک اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔وہ ظاہر ہے۔باوجود اس کے کہ ان کی کئی تعلیمیں ہمارے ساتھ ملتی ہیں جن کو کہ یہ خود بھی مانتے ہیں کہ ملتی ہیں لیکن پھر بھی ان کی مخالفت کم نہ ہوئی مگر میں نہیں سمجھ سکتا کہ کونسی ایسی بات اب کسی گئی ہے جس کی بناء پر وہ ہماری مخالفت کرنے میں حق بجانب ہو سکتے ہیں۔میں نے نہ مضامین میں کوئی ایسی بات کہی ہے نہ خطبہ میں۔نہ ہی ہماری جماعت نے کبھی کوئی ایسی تجویز کی اور نہ ہی ہم نے کوئی ایسا کام کبھی کیا۔جو ان کو نقصان پہنچائے۔سوائے اس کے کہ ان کے بعض ناپسندیدہ افعال کے خلاف اعلان کیا ہے کہ ہم ان کو پسند نہیں کرتے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ جو شخص توحید کا قائل ہو وہ خواہ کچھ کرے جائز کہلا سکتا ہے۔اسے تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا ہر فعل توحید کی پر کھ پر کسا جاتا ہے اور اگر کوئی توحید کا قائل ہو کر ایسے کام کرے جو توحید ہی کے منافی ہوں۔تو اس پر اگر کوئی ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔تو حق بجانب ہے اور اس لائق ہے کہ اس کی ناپسندیدگی کی قدر کی جائے نہ الٹا اس کی مخالفت۔اہلحدیث کو یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث ہے انصر اخاک ظالما او مظلوما۔اے کہ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم۔جب رسول کریم ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔تو صحابہ میں سے بعض نے عرض کی۔یا رسول اللہ مظلوم کی تو مدد ہو سکتی ہے۔مگر ظالم کی کیسے مدد کی جائے۔اس پر آپ نے فرمایا۔ظالم کی مدد ہے کہ تو اس کا ہاتھ روکے۔تا وہ ظلم کرنے سے باز رہے۔جس فعل کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ پسندیدہ نہیں۔اس سے فساد ہوگا یا فتنہ پیدا ہو گا۔یا اس سے دین میں رخنہ پیدا ہو جائے گا اور لوگوں کے لئے بجائے فائدہ مند ہونے کے مضر اور نقصان دہ ہو گا۔ہم اس کے نقصوں کو بیان کریں گے۔اور مشورہ دیں گے کہ اسے نہیں کرنا چاہئے اور اسے سمجھائیں گے کہ اس سے بچو۔جب سے ہماری جماعت قائم ہوتی ہے ہمارا یہی طریق ہے کہ ہم عین قرآن کریم کے منشاء