خطبات محمود (جلد 9) — Page 356
356 کے مطابق اس بات کی تعلیم دیتے آئے ہیں کہ جو بات منوانا چاہو نرمی سے کہو۔سختی اور زبردستی جائز نہیں اور آج تک اسی پر ہمارا عمل ہے۔ہمارا سلسلہ اس لئے دنیا میں نہیں آیا کہ دنیا کے امن میں خلل انداز ہو بلکہ امن قائم کرنے کے لئے آیا ہے اور عدل اور انصاف کے لئے آیا ہے۔ہمارے نزدیک چونکہ یہ خدا کا منشاء ہے اس لئے اس کے بالمقابل ہم کسی کی پرواہ نہ کریں گے اور حق و انصاف کی خاطر اگر اپنوں کے خلاف بھی کہنا پڑے گا تو کہیں گے۔اور اگر غیروں سے کچھ کہنا پڑا تھ ان سے بھی کہیں گے خواہ وہ کسی قوم سے ہوں۔مگر جبر سے کوئی بات منوانا ہم جائز نہیں سمجھتے۔نجدیوں سے مکہ اور طائف میں غلطیاں ہوئیں اور ان غلطیوں کے ساتھ ساتھ جبر بھی جو بالکل ناجائز تھا۔بیشک توحید کے مسئلہ میں ہمارا ان کے ساتھ اتفاق ہے لیکن اس بات میں ان کے ساتھ کوئی اتفاق نہیں کہ قتل و خوں ریزیاں کی جائیں۔لوگوں کے مال و املاک کو تباہ کر دیا جائے۔قبروں کو گرا دیا جائے اور ان سب نشانات کو معدوم کر دیا جائے جو بطور یاد گار ہوں اور جن سے انسان عبرت یا نصیحت حاصل کر کے اصلاح کر سکتا ہو اور روحانیت میں بھی ترقی کر سکتا ہو۔کیا توحید کے قائلین کے لئے یہ جائز ہے کہ جبراً قبریں توڑ دیں۔اگر جائز ہے تو کیا وجہ ہے کہ یہ جائز نہیں کہ تلوار کے ساتھ لوگوں سے اسلام منوایا جائے۔جب ایک جگہ تشدد اور جبر جائز ہے تو دوسری جگہ کیوں جائز نہیں؟ پھر توحید کے لئے اگر یہ ضروری ہے کہ جبراً قبریں گرائی جائیں۔تو پھر چند قبروں کے گرانے سے کیا ہوتا ہے۔ساری قبروں کو مٹا دینا چاہئے نہ صرف قبروں کو بلکہ تمام ان یادگاروں کو بھی گرا - دینا چاہئے جو یا تو عبرت کے لئے ہیں یا نصیحت کے لئے اس وقت تک قائم کھڑی ہیں۔مگر میرے نزدیک توحید اس طرح نہیں پھیلتی۔توحید کے پھیلانے اور لوگوں کو اس پر عامل بنانے کے لئے دل کے بت جب تک نہ توڑے جائیں تب تک توحید نہیں پھیل سکتی۔لاکھ ان قبروں کو گراؤ۔لاکھ ان مقبروں کو مسمار کرو۔جب تک دل سے اس بات کو نہیں مٹایا جاتا کہ شرک بری شے ہے اور قابل ترک ہے تب تک توحید نہیں پھیل سکتی اور ایک بھی شخص موحد نہیں بن سکتا لیکن یہ بات کہ کسی کو زبر دستی کہا جائے کہ مسلمان ہو جاؤ یا کسی کو بزور اس بات پر مجبور کیا جائے کہ توحید پر عامل ہو جائے اور ایسا کرنے کے لئے اسے تشدد کے ساتھ مجبور کیا جائے۔درست نہیں اور میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں کہ بعض ایسی چیزوں کو توڑا پھوڑا جائے جسے توڑنے پھوڑنے والے اپنے خیال کے مطابق اسباب شرک میں سے سمجھتے ہوں۔مگر دوسرے انہیں مقدس قرار دیتے ہوں۔پس بجائے قبروں وغیرہ کو جبرا گرانے کے دل کا بت گرانا چاہئے مگر اس کے لئے بھی