خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 354

354 اہلحدیث کہتے ہیں کہ وہ موحد ہیں اور توحید کو پھیلاتے ہیں اور شرک سے بچتے بلکہ اس سے روکتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ بہ نسبت اور لوگوں کے یہ زیادہ موحد ہیں اور توحید سے پیار کرتے ہیں مگر یہ بھی اس بت کے پرستار ہیں۔جس کے دوسرے۔لوگ ہیں اور اس کو خدائی صفات دیتے ہیں۔انہوں نے بھی دوسروں کی طرح اسے آسمان پر پہنچا دیا ہے اور جب ہم نے اسے بھی توڑنے کی کوشش کی اور ظاہر کیا کہ خدا کی صفات خدا کے لئے ہی ہیں اور کسی انسان میں نہیں آسکتیں۔تو یہی لوگ تھے جنہوں نے سب سے زیادہ ہماری مخالفت کی جنہوں نے سب سے زیادہ ہمیں تکلیفیں دیں اور اس بات سے برا منایا کہ ہم کیوں اس بت کے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ موحد ہونے کا دعوی کرنے کی صورت میں یہ ان کا بھی کام تھا کہ وہ اگر ہمارے ساتھ متفق ہو کر اس بت کو نہیں تو ڑنا چاہتے تھے تو الگ ہو کر ہی اس کو توڑتے۔کیا اہلحدیث کے سب سے بڑے مولوی جو اہلحدیث گروہ میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور ان کے ایڈووکیٹ محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھیوں نے صرف اسی وجہ سے ہماری مخالفت نہیں کی اور ہر طرح کی عداوت ہمارے ساتھ نہیں روا رکھی اور کیا انہوں نے اس کام میں جو اوروں سے نہ ہو سکا اور ہمیں اس کی توفیق ملی۔ہمارے ساتھ اشتراک عمل کیا ؟ پس آج ان کا شکوہ بے جا ہے۔آج سے پہلے ان کو اس کا خیال کرنا چاہئے تھا۔توحید کی تعلیم ہم نے آج جاری نہیں کی ہمارا تو سلسلہ ہی خدا تعالیٰ نے توحید کی تعلیم کے لئے جاری کیا ہے اور ہم شروع سے ہی توحید کی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں اور اس وقت بھی توحید ہی کی تعلیم دیتے ہیں۔لیکن اسی توحید کی تعلیم کے سبب اہلحدیث لوگوں نے ہماری مخالفت کی۔جو خیال ان کو آج پیدا ہوا ہے۔اگرچہ انہیں آج سے پہلے کرنا چاہئے تھا لیکن باوجود اس کے ہم پھر بھی کہتے ہیں کہ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے بہت حد تک توحید کو دنیا میں پھیلایا اس لئے توحید کے پھیلانے میں اب بھی ہم ان کے ساتھ ہیں۔بشرطیکہ وہ جائز طریق پر ہو۔ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دنیا میں امن سے رہو اور ہر معالمہ میں انصاف سے کام لو اور جو حق بات ہو اس کی تائید کرو۔پس میں یہ کہتا ہوں کہ اہلحدیث نے بہت حد تک شرک کو مٹایا اور ہم ان کی اس کوشش کو بے انصافی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے مگر تعجب ہے کہ ایک طرف تو یہ شرک کے مٹانے والے بنتے ہیں اور دوسری طرف جب ہم بھی شرک کو مٹانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے سیدھی راہ تو یہ تھی کہ فوراً ہمارے ساتھ متفق