خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 353

353 ہے۔میں خوش ہوں کہ اہلحدیث کو آخر تسلیم کرنا پڑا کہ ہماری جماعت موحد جماعت ہے مشرک نہیں اور اسے اہلحدیث کے ساتھ اس رنگ میں مشابہت ہے اور احمدی جماعت اور اہلحدیث کے عقائد توحید کے مسئلے میں ملتے ہیں اور مشترک ہیں۔پھر ہم نہ صرف ان کے ہم خیال ہی ہیں بلکہ شرک کے توڑنے اور توحید کے پھیلانے میں ہم ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔پس میں خوش ہوں کہ آخر ان لوگوں کو محسوس ہو گیا کہ ہم مشرک نہیں موحد ہیں اور ہماری تعلیم شرک سے پاک ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ توحید کی تعلیم آج ہم میں آئی ہے یا پہلے بھی ہم میں موجود تھی۔آج سے تیس سال پہلے بھی ہم یہی کام کرتے تھے اور ان کاموں کو کرتے ہوئے ویسے ہی موحد چلے آئے تھے جیسے کہ اب ان کو نظر آئے مگر اس وقت ان کے خیال میں یہ بات نہ آئی کہ احمدی بھی موحد ہیں۔اس وقت تو سب سے زیادہ مشرک ان کو اگر کوئی نظر آتے تھے تو احمدی ہی نظر آتے تھے اور اسی سبب سے وہ ہمارے دشمن بھی بنے ہوئے تھے۔سب سے زیادہ ہماری مخالفت کس نے کی؟ سب سے زیادہ تکلیف ہمیں کس نے دی؟ اور ہندوستان کا دورہ کر کے ہم پر کفر کے فتوے کس نے لگائے؟ کیا یہی اہلحدیث نہیں تھے ؟ ہم یہی نہ کہہ رہے تھے کہ خدا کے مقابلہ پر عیسی علیہ السلام کو نہ کھڑا کرد؟ مگر اسی وجہ سے انہوں نے ہماری مخالفت کی اور ہم پر کفر کے فتوے لگائے۔ورنہ الہام کا مسئلہ زیر بحث نہیں تھا کیونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی لکھ چکے تھے کہ الہام ہو سکتا ہے اور بعض لوگوں کو ہوتا ہے اور یہ جائز ہے۔پس الہام کا مسئلہ تو ان کفر کے فتوؤں کی وجہ نہ تھا۔جو ان لوگوں نے ہم پر لگائے اور نہ ہی ان کی مخالفتیں اور عداوتیں اس مسئلہ کا سبب تھیں کہ ہم نہ صرف الہام کے قائل بلکہ اس کے مدعی بھی تھے۔اس صورت میں جو مسئلہ ہمارا جدا گانہ تھا۔اور جسے ہم پیش کرتے تھے اور جس پر لوگ سب سے زیادہ ہمارے دشمن بن گئے تھے۔وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کا مسئلہ تھا اور ہماری یہ تعلیم تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام دوسرے انبیاء کی طرح فوت ہو گئے ہیں اور آسمان پر نہیں گئے لیکن اس کے برخلاف یہ لوگ اس کے قائل نہیں تھے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدائی صفات کے ساتھ زندہ آسمان پر مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں۔پس ان لوگوں کی وحدانیت کی تعلیم نے اگر زمین پر بت توڑے گو سارے نہ توڑے تو ہماری تعلیم نے نہ صرف زمین پر ہی بت توڑے بلکہ آسمان پر بھی جا کر توڑا اور ایسا تو ڑا کہ اس بت کو خدا کے برابر کھڑا کرنے والوں میں سے ہزاروں لاکھوں تسلیم کر گئے۔یہ بت ہمارے ہاتھوں سے ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی چاہتی کہ اس کو توڑے تو بھی نہ توڑ سکتی۔