خطبات محمود (جلد 9) — Page 333
333 غلامی کا حلقہ پہنایا جاتا ہے۔میں چونکہ دمشق کو خود دیکھ آیا ہوں۔اس لئے وہاں کے حالات سے واقفیت رکھتا ہوں۔وہاں لوگوں کا آپس میں سخت تفرقہ ہے اور چھ قسم کی رائیں اس ملک میں پائی جاتی ہیں۔بعض لوگ تو فرانس کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں مگر یہ بہت ہی قلیل ہیں۔بعض انگریزوں کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔ان کی تعداد پہلوں سے کچھ زیادہ ہے۔بعض ترکوں کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔ان کی تعداد بھی بہت ہی کم ہے۔بلکہ ان لوگوں سے بھی کم ہے جو فرانسیسیوں کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔بعض کی رائے ہے کہ حجاز اور فلسطین کو ملا کر ایک حکومت قائم کرلی جائے۔مولویانہ رنگ کے لوگ اس خیال کے ہیں اور جو دوسرے ہیں وہ کہتے ہیں حجاز چونکہ بہت پس ماندہ ہے اس کے ساتھ ہم ترقی نہ کر سکیں گے۔اس لئے شام اور عراق کی ایک حکومت بنائی جائے جو امیر فیصل کے ماتحت ہونی چاہئے۔ان کے علاوہ ایک اور جماعت ہے جو یہ کہتی ہے کہ نہ حجاز اور فلسطین کی حکومت مفید ہو سکتی ہے اور نہ شام اور عراق کی۔اس لئے شام اور لبنان کو ملا کر ایک حکومت قائم کرنی چاہئے۔یہ چھ پارٹیاں ہیں جو آپس میں لڑتی رہتی ہیں۔لیکن ملک میں سے دو فیصد بھی ایسے لوگ نہ ہوں گے جو فرانس کی تائید کرتے ہوں۔پس گو ان میں یہ خانہ جنگی یا کشمکش نظر آتی تھی لیکن ان خیالات کے نیچے وہ ضمیر حریت بول رہی تھی جو آزادی چاہتی تھی اور جو کسی کے ماتحت نہیں رہنا چاہتی۔یہ قدرتی بات ہے کہ ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک چاہتا ہے کہ اس کی اپنی حکومت ہو مگر بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ خود حکومت حاصل نہیں کر سکتے۔تو کسی اور اجنبی حکومت کو چاہتے ہیں اور ایک دوسری حکومت کے لئے جدوجہد کرتے ہیں جو ان کے لئے ویسی ہی اجنبی ہوتی ہے جیسی کہ پہلی۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنی حکومت ہی نہیں چاہتے بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی بعض غلطیوں سے بیزار ہو جاتے ہیں اور ایک دوسری حکومت کی تمنا کرنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ انہوں نے اس حکومت کو دیکھا نہیں ہوتا کہ وہ کیسی ہوگی وہ خیال کرتے ہیں کہ شائد نئی حکومت موجودہ حکومت سے بہتر ہو۔اس لئے وہ اس کوشش میں لگ جاتے ہیں اور اس کی تہہ میں ان کی یہ غرض بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری حکومت کی مدد حاصل کریں اور موجودہ حکومت کو اس کی مدد سے نکال دیں۔یہی حال شام کا تھا۔شامی لوگ اگر یہ کہتے تھے کہ وہ انگریزوں کی حکومت چاہتے ہیں تو وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم در حقیقت انگریزوں کو نہیں چاہتے بلکہ