خطبات محمود (جلد 9) — Page 334
334 فرانسیسیوں کو نکالنے کے لئے اس رنگ میں ان کی مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ ہم ان کو بغیر کسی کی مدد کے نکال نہیں سکتے اور جب ان کو نکال لیں گے تو پھر دیکھا جائے گا۔حکومت کا بھی وہاں عجیب انداز ہے۔چار حکومتیں ایک ہی وقت میں وہاں قائم ہیں ان میں سے ایک فرانسیسی حکومت بھی ہے۔اس کے دو ٹکڑے ہیں۔فرانسیسیوں کی طرف سے ایک گورنر وہاں رہتا ہے۔ایک ترک حاکم بھی اس علاقہ میں تھا۔وہ اصلی ترک نہیں تھا بلکہ ایسا ترک تھا جو باہر سے آکر اس ملک میں بس گئے ہیں۔یہ شخص بڑا ہی ہوشیار تھا۔فرانسیسی حاکم جو اس ملک میں رہتا تھا۔وہ ریذیڈنٹ کہلاتا تھا۔جس طرح ہندوستان میں ریاستوں کے ساتھ ایک ریذیڈنٹ رہتا ہے۔اسی طرح کا یہ بھی تھا۔میں اس سے بھی ملا۔دیر تک سیاسی معاملات پر گفتگو ہوئی۔پھر مولویوں کی بھی حکومت ہے۔پریس پر مولویوں کا قبضہ ہے۔جو کتاب چاہیں چھاپنے دیں اور جو نہ چاہیں نہ چھپنے دیں۔وہاں ایک مفتی بھی ہے۔جو پریس پر بکلی اختیار رکھتا ہے۔اور اگر وہ کسی کتاب کو روک دے تو کسی کی طاقت نہیں جو اسے شائع کر سکے۔ہم جب دمشق میں تھے تو ہم نے ایک ٹریکٹ چھپوایا اور گورنر سے پوچھ کر چھپوایا۔بعد میں کسی نے شکایت کی۔یا خدا جانے کیا بات ہوئی۔مفتی نے اس کی اشاعت روک دی۔ہم نے ہر چند کہا کہ ہم نے گورنر کی اجازت سے چھپوایا ہے مگر ایک نہ سنی گئی اور اس کی ضبطی کا حکم دے دیا گیا۔آخر گورنر کے پاس گئے اور کہا ہم نے آپ کی اجازت سے ٹریکٹ چھپوایا ہے لیکن مفتی اسے ضبط کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔اس نے کہا۔مفتی کے حکم کے بعد میں کچھ نہیں کر سکتا۔کیونکہ پریس مفتی کے ماتحت ہے اور اس ملک میں قانون ہے کہ جس بات کو چاہیں مفتی چھپنے دیں اور جس کو چاہیں نہ چھپنے دیں یا روک دیں یا ضبط کر لیں۔ان دو حکومتوں کے ساتھ ساتھ ایک اور حکومت بھی ہے جو کونسل کی حکومت ہے۔کونسل فرانسیسیوں نے بنائی اور ایک شخص کو گورنر منتخب کیا۔یہ گورنر لبنان کو چھوڑ کر سارے شام کا گورنر تھا۔یہ شخص جو لبنان کے سوا سارے شام کا گورنر تھا۔خالد بن ولید ان کی اولاد سے تھا مگر افسوس کہ ایسے نامی گرامی اور بہادر شخص کی اولاد سے ہونے کے باوجود جو کہ خالص عربی نسل سے تھا۔وہ عربی نہیں بول سکتا تھا مگر شریف آدمی تھا۔اس کے ساتھ جب میں ملا۔تو بہت عمدگی کے ساتھ گفتگو کرتا رہا۔اس نے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں باوجود عربی النسل ہونے کے عربی نہیں بول