خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 332

332 بربادوں کی کوئی خبر لینے والا بھی نہ ہوگا۔پس غور کرو کہ کس صفائی سے ”بلاء دمشق" کا الہام جو آج سے کئی سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا۔پورا ہوا ہے۔تین ہزار سال میں ایسی تباہی اس شہر پر نہیں آئی جو اب آئی ہے۔اور ہم اس کو پیش کر کے ان لوگوں سے جو کہتے ہیں ہم مرزا صاحب کو خادم اسلام تو مانتے ہیں مگر مامور من اللہ نہیں مانتے پوچھتے ہیں۔کیا آپ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی یا نہ جو " بلاء دمشق" کے الفاظ میں آپ نے آج سے بہت سال پہلے کی تھی کہ دمشق پر ایک آفت آنے والی ہے؟ کیا وہ لوگ جو دیانتداری کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس پیشگوئی کو دیکھ کر اقرار کریں گے کہ ایسی عظیم الشان خبر دینا کسی مولوی کا کام نہ تھا بلکہ یہ م کسی مامور کا تھا اور حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کے لئے مامور تھے۔اگر وہ لوگ اس بات کا اقرار نہیں کریں گے کہ حضرت مرزا صاحب خدا کے مامور تھے اور خدا تعالٰی ان سے ہمکلام ہوتا تھا اور ہر رنگ میں ان کی مدد کرتا تھا تو مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ وہ سنجیدگی اور شرافت کے ساتھ اس معاملہ میں غور نہیں کرتے بلکہ اس معاملہ کو کسی اور آنکھ سے دیکھتے ہیں۔اس کے بعد میں اس اظہار سے بھی نہیں رک سکتا کہ دمشق میں ان لوگوں پر جو پہلے ہی بے کس اور بے بس تھے۔یہ بھاری ظلم کیا گیا ہے۔ان لوگوں کی بے بسی اور بیکسی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے ملک کے آپ مالک ہونے کے دوسروں کے محتاج بلکہ دست نگر ہیں۔میرے نزدیک شامیوں کا حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کریں۔ملک ان کا ہے۔حکمران بھی وہی ہونے چاہئیں۔ان پر کسی اور کی حکومت نہیں ہونی چاہئے۔یہ ظلم اس لحاظ سے اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ پچھلی جنگ میں اہل شام نے اتحادیوں کی مدد کی اور اس غرض سے مدد کی کہ انہیں اپنے ملک میں حکومت کرنے کی آزادی دی جائے گی۔پھر کتنا ظلم ہے کہ اب ان کو غلام بنایا جاتا ہے۔وہ ملک جو تلوار کے ذریعے زیر نہ کئے جائیں بلکہ معاہدات کی رو سے سیاست اور علم کا چرچا نہ ہونے کے سبب جن کی تربیت کرنے کا ذمہ لیا جائے۔کیا ان کی یہی حالت ہونی چاہئے کہ انہیں بالکل غلام بلکہ غلاموں سے بھی بد تر بنانے کی کوشش کی جائے۔انہیں ہر طرح تکلیف دی جائے اور بجائے مدد کرنے کے ان کو نقصان پہنچایا جائے۔پس نہ انگریزوں کا اور نہ کسی اور سلطنت کا حق ہے کہ وہ شامیوں کے ملک پر حکومت کریں اور نہ ہی فرانسیسیوں کا حق ہے کہ وہ ملک پر جبراً قبضہ رکھیں۔شامیوں نے اتحادیوں کی مدد کی اور انہیں فتح دلائی۔جس کا بدلہ یہ ملا کہ فرانسیسیوں نے ان کے ملک کو تباہ اور ان کے گھروں کو ویران کر دیا۔اس سے زیادہ کیا غداری ہو سکتی ہے کہ جس نے ان کو فتح دلائی اسے ہی