خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 317

317 ہائیں جو چیزیں ہیں ان میں بھی محبت رکھی گئی ہے اس کے آگے جو چیزیں ہیں۔ان میں بھی محبت رکھی گئی ہے اور اس کے پیچھے جو چیزیں ہیں۔ان میں بھی محبت رکھی گئی ہے اور خود اس کی پرورش میں محبت رکھی گئی ہے۔پھر نیچر کے ہر ذرہ میں محبت رکھی گئی ہے۔پھر حیوانوں میں بھی محبت ہے۔جمادات میں بھی محبت ہے۔نباتات میں بھی محبت ہے۔غرض ہر چیز میں محبت ہے اور ایک انسان خدا کی محبت سے پہلے اور بہت سی چیزوں سے محبت کرتا ہے۔دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں۔جن سے وہ پیدا ہوتے ہی محبت کرتا ہے مگر خدا کی محبت اس کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ شعور پاتا ہے۔نیچر میں جو محبت ہے۔حیوانات میں جو محبت ہے۔نباتات میں جو محبت ہے۔جمادات میں جو محبت ہے اور اور چیزوں میں جو محبت ہے ان سب کی غرض صرف یہی ہے کہ انسان میں وہ محبت قائم رہے۔جو خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے شروع سے ہی اس کے اندر بطور پیج رکھی گئی ہے۔یہ چیزیں ونکہ انسان کے لئے غذا بہم پہنچاتی ہے اور دنیا میں آنے کے بعد انسان نے ان سے غذائیں لینی ہوتی ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان میں بھی محبت رکھ دی تاکہ انسان کے دل میں جو محبت رکھی گئی ہے۔ایسی غذائیں کھانے سے اس کی نشوونما بھی ہوتی جائے اگر ان چیزوں میں محبت نہ ہوتی تو انسان اپنی پہلی محبت کو ضائع کر لیتا۔پس ان سب چیزوں میں جو محبت رکھی گئی ہے۔وہ اس لئے ہے کہ انسان کی غذائیں بھی محبت سے ہوں اور خدا تعالیٰ کی محبت کا وہ پیج جو ایک انسان کے قلب میں رکھا گیا ہے نشو نما پاتا چلا جائے۔پس لن تنالوا البر میں جس ”بر " کا ذکر ہے اس ”بر" کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے جب تک خدا کے ساتھ محبت کرنے کے لئے ان چیزوں کو کہ جن کے ساتھ محبت کرتے ہو قربان نہ کر دی جائیں۔انسان کے لئے سب سے پہلی محبت تو اپنے نفس کی ہی محبت ہے۔جس کی خاطر پیدا ہوتے ہی وہ غذا کے لئے تڑپتا ہے۔اسے اس وقت اور کسی بات کی ہوش نہیں ہوتی۔وہ ماں باپ تک کو نہیں جانتا لیکن غذا مانگتا ہے جو کہ اس کی زندگی کے لئے ضروری ہوتی ہے اور یہ اس کی اس محبت کا ثبوت ہوتا ہے جو اسے اپنی ذات سے ہوتی ہے۔پھر دوسری محبت بچہ کو ماں سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس سے اسے غذا ملتی ہے۔جوں جوں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اسے غذا ملتی ہے۔توں توں وہ ماں سے زیادہ محبت کرتا جاتا ہے۔پھر تیسری محبت باپ سے ہوتی ہے۔جیسے جیسے بچہ کو سمجھ آتی ہے کہ میرا باپ میری ماں کی زندگی کے قیام کا مددگار ہے۔وہ کماتا ہے اور وہ کھاتی ہے اور کپڑے