خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 318

318 پہنتی ہے تو وہ اس سے بھی محبت کرنے لگتا ہے۔اس وقت بچہ یہ نہیں جانتا کہ میری پیدائش میں بھی اس کا دخل ہے لیکن وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔پھر اسی طرح اور چیزوں سے بھی محبت کرتا ہے اور پھر جب عمر بڑھتی جاتی ہے اور وہ جوان بالغ ، باشعور ہوتا ہے۔تب جاکر اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے اندر بڑھنے لگتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی محبت سے پہلے جو محبتیں انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔وہ جب تک خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے کائی نہ جائیں۔تب تک خدا کی محبت بڑھ نہیں سکتی اور جب تک یہ محبتیں جو ایک درخت کی مانند انسان کے اندر ہو جاتی ہیں۔قربان نہ کر دی جائیں۔تب تک خدا تعالیٰ کی وہ محبت جو ابھی ایک ننھے سے پودے کی طرح ہوتی ہے بڑھتی نہیں۔یہ ناممکن ہے کہ یہ محبتیں بھی انسان قربان نہ کرے اور خدا تعالیٰ کی محبت صادق بھی اس کے اندر ہو۔دیکھو ایک چھوٹا پودا اگر سایہ دار درختوں کے نیچے ہو۔تو وہ بڑھتا نہیں۔بلکہ اس سایہ کے نیچے خشک ہو جاتا ہے۔کیونکہ بڑے درخت زمین سے اس قدر غذا لے لیتے ہیں کہ چھوٹا پودا کچھ نہیں لے سکتا۔چھوٹے پودے میں چونکہ ابھی اتنی قوت جاذبہ پیدا نہیں ہوئی ہوتی۔اس لئے وہ زمین سے غذا نہیں لے سکتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خشک ہو جاتا ہے۔اس کے لئے دو ہی صورتیں ہوتی ہیں۔بڑے درختوں میں سے بعض کی شاخیں کاٹی چھانٹی جائیں تاکہ سورج کی روشنی چھوٹے پودے تک بھی پہنچ سکے اور بعض درختوں کو اکھیڑ دیا جائے تاکہ وہ پودا جس کی حفاظت کی ضرورت ہے زمین سے غذا پا سکے۔اگر بڑے بڑے درخت کاٹے چھانٹے نہ جائیں اور اگر ان میں سے بعض درختوں کو اکھیڑا نہ جائے۔تو وہ پودا جو ابھی چھوٹا ہوتا ہے بڑھ نہیں سکتا بلکہ مرجھا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ہے اور یہ محبت ایک انسان میں جب کہ وہ باشعور ہو جاتا ہے۔ایک پودے کی مانند ہوتی ہے۔اس لئے جب تک وہ محبتیں جو ایک درخت کی مانند انسان کے اندر جگہ پکڑ چکی ہیں کاٹی چھانٹی نہ جائیں اور اکھیڑ کے پرے نہ پھینک دی جائیں۔تب تک خدا کی محبت پورا پورا نشو و نما نہیں پا سکتی۔پس جس طرح ایک مالی ایک ضروری پودے کے لئے اگر اس کی ضرورت پڑے تو دس ہیں درختوں کو اکھیڑ دیتا ہے۔اسی طرح خدا کی محبت کے ضروری پودے کے لئے دوسری محبتوں میں سے جن کے قربان کرنے کی ضرورت ہو۔قربان کی جائیں تو خدا تعالیٰ کی محبت بڑھ سکتی ہے اور لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون میں خدا تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ جب تک محبت والی چیزوں کو قربان نہ کر دو گے اور وہ مال جو اس راستے میں روک ہو خدا کے راستے میں لٹا نہ دو گے ”بر " نہیں پاسکتے۔اور اس مقام پر نہیں پہنچ