خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 316

316 حج کرتے ہو۔روزہ رکھتے ہو۔جہاد کرتے ہو۔لوگوں کے ساتھ اخلاق فاضلہ سے پیش آتے ہو اور اس کے سوا اور ذرائع سے بھی ایک مقصد حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتے ہو۔وہ مقصد کیا ہے؟ وہ "بر" ہے۔"بر" نیکی کے اس مقام کو کہتے ہیں کہ جہاں سے گرنے کا خطرہ نہ رہے۔گویا اس مقام پر پہنچ کر ایک شخص چاروں طرف سے نیکی کے اندر گھر جاتا ہے اور پھر اسے گرنے کا خوف نہیں رہتا۔دیکھو اگر کوئی شخص سیڑھی کے نچلے درجہ پر ہو تو اس کے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔لیکن اگر ایسی جگہ ہو کہ اس کے آگے بھی آدمی کھڑے ہوں اور پیچھے بھی تو وہ نہیں گر سکتا۔کیونکہ پچھلے آدمی اسے سہارا دیے کھڑے ہوتے ہیں۔پس ”بر " اس مقام نیکی کو کہتے ہیں۔جو وسیع ہے اور جس میں گرنے کا خوف نہیں ہوتا۔جو ”بار ہوتا ہے۔اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے۔نیچے اوپر نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں اور وہ نیکیوں میں پورے طور پر گھرا ہوتا ہے۔اسلئے اس کا گرنا ناممکن اور محال ہو جاتا ہے۔لن تنالوا البر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس مقام پر پہنچنے کے لئے جس میں کثیر حصہ نیکی کا مل جاتا ہے اور ایک کے تباہ ہونے کا خدشہ نہیں رہتا۔قربانی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایسا مقام جس پر پہنچ کر ایک شخص بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔یونہی نہیں مل جاتا بلکہ اس کے لئے بعض ایسی چیزوں کو قربان کرنا پڑتا ہے جن سے اسے پیار ہوتا ہے اور وہ انہیں اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔حتی تنفقوا مما تحبون میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ قربانی جو "بر" کے پانے کے لئے تمہیں کرنی چاہیے یہ ہے کہ محبت والی چیزوں کو قربان کر دو۔اور جن چیزوں کے ساتھ تمہیں پیار ہو۔انہیں خدا کی رضا کے لئے اس کے ہی راہ میں خرچ کر ڈالو۔اگر تم ایسا کرو گے۔تو ”بر" کو پا لو گے۔کیونکہ ”بر" کے پانے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اپنی پیاری چیزوں اور محبت والی اشیاء کو قربان کر دو۔کیا عجیب بات ہے کہ خدا کی محبت کے حصول کے لئے جو ”بر " کا اصل مقصد ہے۔ایسی قربانی طلب کی گئی ہو جو خدا کی محبت کو جذب کرنے والی ہے مگر باوجود اس کے اس کا درجہ سب سے آخیر پر ہے۔انسان کی خدا کے ساتھ محبت یہی ہے کہ وہ خدا کے قریب ہو جائے مگر یہ محبت پیدا ہوتے ہی بچہ میں نہیں پیدا ہو جاتی۔بلکہ بڑے ہو کر اس کے اندر پیدا ہوتی ہے اور مختلف محبتوں کے بعد اس کے دل میں یہ محبت پیدا ہوتی ہے۔غور کر کے دیکھ لو دنیا کی ہر چیز میں محبت رکھی گئی ہے۔ایک انسان اگر کہیں کھڑا ہو کر غور کرے۔تو اسے معلوم ہو۔اس کے دائیں جو چیزیں ہیں ان میں بھی محبت رکھی گئی ہے اور اس کے پر