خطبات محمود (جلد 9) — Page 315
315 چاہیے۔آدمی اگر زیادہ آنے شروع ہو جائیں اور جماعت کے لوگ اس طرف توجہ کرنا چھوڑ دیں اور بجائے قربانیوں میں ترقی کرنے کے کمی پیدا کر لیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ آنے والوں کو تکلیف پہنچے گی اور پھر جلسہ پر آنے والے کم ہو جائیں گے۔جس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم کام کی اس بنیاد کو اکھیڑنے والے ہونگے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنے ہاتھوں رکھی اور خدانخواستہ ایسا ہو تو وہ دن ہمارے لئے سخت افسوس کا دن ہو گا۔جب کہ ہماری وجہ سے لوگ جلسہ میں آنا چھوڑ دیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلسہ پر آنے والوں کی کثرت کو دیکھ کر اور اخراجات کے اضافہ سے آگاہ ہو کر اپنی قربانیوں کو بھی بڑھائیں کیونکہ آنے والوں کی کثرت کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی کثرت ہو رہی ہے۔یہ مشکل ہے کہ دوسرے صیغوں سے لے کر ادھر خرچ کر لیا جائے۔اول تو دوسرے صیغوں میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان سے روپیہ نکال کر جلسہ پر خرچ کیا جائے۔لیکن اگر ایسا کر لیا جائے تو کارکنوں کو بھی تکلیف پہنچے گی۔اور دوسرے کاموں میں بھی حرج واقع ہو گا۔کارکنوں کا تو یہ حال ہے کہ ان کو دو دو تین ماہ کی پہلے ہی تنخواہیں نہیں ملیں اور اب اگر یہ کیا جائے کہ بعض دوسرے صیغوں سے روپیہ نکال کر جلسہ پر خرچ کر لیا جائے تو اس سے دوسرے کاموں کا بھی نقصان ہو گا اور کارکنوں کو چار چار ماہ کی تنخواہیں نہ مل سکیں گی۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جلسہ کا بار جلسہ پر ہی پڑے۔تا کہ دوسرے کاموں کو نقصان نہ پہنچے۔پس میں آج دوستوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ جلسہ کے اخراجات بہت جلد مہیا کر دیں۔میں نے ابھی جو آیت پڑھی ہے وہ اپنے مضمون میں اس قدر صاف اور اس قدر واضح اور اس قدر روشن ہے کہ ادنی سے تامل سے بھی ایک شخص اس کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔اس آیت کا مطلب بالکل روشن ہے۔اس میں ”بر کو پانے کے لئے یعنی نیکی حاصل کرنے کے لئے ان چیزوں کی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔جو سب سے زیادہ پیاری ہوں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔پس میں نہیں سمجھ سکتا۔کہ ایک شخص جو " بر " کو پانا چاہتا ہے۔ایک ایسے دینی کام کے لئے جس کی ضرورت ہر طرح مسلم ہو۔کس طرح مال خرچ کرنے سے ہاتھ کھینچ سکتا ہے اور کیونکر گوارا کر سکتا ہے کہ وہ اپنی پیاری شے کو اس کے لئے قربان نہ کر دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون۔تم اپنا ایک مقصد بیان کرتے ہو اور اس کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہو۔نماز پڑھتے ہو۔زکوۃ دیتے ہو۔صدقہ و خیرات کرتے ہو۔