خطبات محمود (جلد 9) — Page 314
314 جلسہ میں کثرت سے لوگ آتے ہیں۔پس جو کثرت لوگوں کی ہمارے جلسہ میں ہوتی ہے۔وہ دوسرے لوگوں کے باقاعدہ جلسوں میں نہیں ہوتی۔البتہ میلوں وغیرہ میں ہو جاتی ہے۔یا پیروں کے عرس پر ہوتی ہے۔مگر عرس بھی تو میلے ہی ہیں کیونکہ وہاں وعظ و نصیحت نہیں ہوتی بلکہ میلوں کی طرح وہاں بھی راگ رنگ اور ناچ گانا ہوتا ہے۔جسے لوگ سن کر واپس چلے جاتے ہیں۔ایسے موقعوں پر لوگوں کی کثرت ہو جاتی ہے لیکن کسی باقاعدہ جلسہ میں لوگوں کی اس قدر کثرت نہیں ہوتی جس قدر خدا کے فضل سے ہمارے جلسہ پر ہو جاتی ہے۔ان میلوں اور عرسوں پر نسبتا زیادہ لوگ آتے ہیں مگر کثرت انہیں لوگوں کی ہوتی ہے جو قریب کے ہوتے ہیں لیکن برخلاف اس کے ہمارے جلسہ میں دور دور کے علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔اور اس کثرت سے آتے ہیں کہ ان کی تعداد نو دس ہزار تک پہنچ جاتی ہے اور اگر نزدیک کے لوگوں کو بھی شامل کر دیا جائے تو جلسہ کی حاضری بارہ بلکہ چودہ ہزار تک پہنچ جاتی ہے اور اگر قادیان کے رہنے والے لوگوں کو بھی شامل کر دیا جائے تو تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔پس جس کثرت کے ساتھ ہمارے جلسہ پر لوگ آتے ہیں۔وہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور ایسی کامیابی ہے کہ جس کا مقابلہ کوئی اور جلسہ نہیں کر سکتا۔حتی کہ اگر بعض جلسوں کی استثناء کر دی جائے تو کانگرس کے جلسے بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔کانگرس کے جلسوں میں لوگ کثرت سے جاتے ہیں مگر پھر بھی ان میں جانے والوں کی تعداد اس حد تک نہیں پہنچتی جس حد تک ہمارے جلسوں میں پہنچ جاتی ہے۔ہمارے جلسہ کی کثرت اس توجہ کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جلسہ کی طرف تھی۔حضرت صاحب نے اس جلسہ کی بنیاد رکھی اور بار بار لوگوں کو اس میں آنے کے لئے توجہ دلائی اور دعائیں بھی کیں۔آخر یہ جلسہ با رونق ہوا اور ہر سال اس کی رونق بڑھتی چلی جاتی ہے اور لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔مگر آدمیوں کی کثرت کے ساتھ اخراجات کی کثرت لازم ہے جوں جوں جلسہ پر آنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔اخراجات میں بھی زیادتی ہوتی چلی جائے گی اور یہ سب خرچ جماعت ہی نے اٹھانا ہے۔اگر جماعت اس کی طرف سے سستی کرے تو پھر ان اخراجات کے پورا کرنے میں کئی طرح کی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔پس جیسے جیسے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے جو جلسہ پر آتے ہیں۔ویسے ویسے جماعت کو بھی جلسہ کے زیادہ اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ ایثار کے لئے آمادگی پیدا کرنی