خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 235

235 اس کی امت کو ورثہ میں ملتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سامنے عذر کرتے ہیں کہ زبان نہیں چلتی۔فرعون کے سامنے کیسے جاؤں۔ہارون کو بطور مددگار دے دیجئے۔نبی جھوٹا انکسار نہیں کیا کرتے جو یہ سمجھ لیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ازراہ انکسار ایسا کہا ہو۔وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔واقع میں وہ کمزوری محسوس کرتے ہوں گے۔نبی ہمیشہ سچ سچ کا انکسار کیا کرتے ہیں وہ بناوٹ کے طور پر ایسا نہیں کرتے۔اور نہ ہی کسی خوف کے سبب انہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں فی الواقع ہی کمزوری ہو تو وہ پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں کہ کمزوری تو کوئی ہو نہ اور وہ یونسی اپنے آپ کو کمزور ٹھراتے پھریں۔غرض وہی موسی جو زبان نہ چلنے کا عذر کر رہے تھے اور ہارون کو بطور مدد گار مانگ رہے تھے۔حرام ہے جو ایک لفظ بھی پھر ہارون کو بولنے دیا ہو۔وہ ہارون جن کو مدد کے لئے مانگ رہے تھے۔جب مل گئے تو ان کو موسی نے بولنے بھی نہ دیا اور سارا کام آپ ہی کیا تو اس سے سمجھ آتا ہے کہ تحریر اور زبان بھی نبوت کا انعام ہیں اور نبی کے ساتھ اس کی جماعتوں کو بھی یہ انعام ملتے ہیں۔اپنی طرف ہی دیکھ لو کہ کس طرح تم ان انعامات کے وارث بنائے گئے ہو۔جو انعامات کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا کی طرف سے پائے۔تم میں کیا ہے کہ تم سب پر بھاری ہو۔یہی کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انعامات کے وارث ہو۔مولوی بھی تو ڈرتے تھے کہ مرزائیوں کی زبان تو قینچی کی طرح چلتی ہے۔ان کے ساتھ بات نہ کرو۔مرزائی باتوں میں تو کسی کو ور نہیں آنے دیتے اور پھر ہم تو اس نبی کی امت ہیں کہ جس کے الفاظ کے علاوہ معافی کو بھی معجزہ قرار دیا گیا ہے۔معنی تو درکنار دیکھ لو قرآن جیسی عبارت بھی تو کوئی پیش نہیں کر سکتا۔باوجود ایسے نبی کی امت ہونے کے پھر بھی اگر ہم پر مہر لگ جائے اور ہم ان انعامات سے فائدہ نہ اٹھائیں تو کیا ہم کو ڈر نہیں کرنا چاہئے اور ہمیں اس حالت کے بدلنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں مارنے چاہئیں۔تا ایسا نہ ہو کہ ان انعامات کا کسی اور کو وارث بنا دیا جائے۔پس میں تعلیم یافتہ طبقہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریر آ بھی ان باتوں کا جواب دے جو لوگ ہمیشہ ہمارے متعلق لکھتے رہتے ہیں۔آج کل تو تقریباً ہفتہ میں ایک آرٹیکل ضرور ایسا نکلتا رہتا ہے۔جس میں ہمارا ذکر ہوتا ہے لیکن ہماری طرف سے کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں کرتا۔تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہوں۔عالم ہوں یا نہ ہوں میں ان سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ سلسلے پر جو