خطبات محمود (جلد 9) — Page 234
234 کریں تو اهدنا الصراط المستقیم کی دعا جو ہر نماز میں مانگتے ہیں۔کہ اے خدا تو سب کو ہدایت دے وہ بھی پوری ہو سکتی ہے۔اگر سب کے سب تبلیغ میں لگ جائیں۔تو یہ دعا ضائع نہ جائے۔کیونکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ساتھ ساتھ اسباب سے بھی کام لیا جائے۔میں ایک عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ لٹریری اور ادبی مذاق ہماری جماعت سے ویسے ہی اڑا جا رہا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔گویا اس لحاظ سے وہ مردہ ہوتی چلی جاتی ہے۔میں نے انگریزی خوانوں کو متواتر کہا کہ وہ مضمون لکھیں لیکن وہ اس پر توجہ نہیں کرتے۔میں محکموں کو بھی اس سے بری نہیں کر سکتا۔ان کا کام یہ بھی ہے کہ وہ مضمون لیں لیکن تعلیم یافتہ طبقہ پر کچھ ایسی جمود اور موت کی حالت طاری ہے کہ وہ یہ دیکھ کر بھی کہ اعتراض پر اعتراض ہو رہے ہیں بالکل خاموش رہتے ہیں لیکن قادیان والے تو بالکل ہی اس بات کی طرف نہیں آتے۔ان دنوں تقریباً ڈیڑھ سو آرٹیکل ہمارے متعلق مختلف انگریزی اخباروں میں نکلے ہوں گے۔لیکن نہ باہر کے لوگوں نے اور نہ قادیان والوں نے کوئی ان کا جواب دیا۔حالانکہ اس کے متعلق کچھ لکھنا بہت ضروری تھا۔باہر کے ایک دو دوستوں نے بے شک اس طرف توجہ کی اور ان میں سے بعض مضامین کے جواب لکھے لیکن جب تک تمام کے تمام اس کام کی اہمیت رکھنے والے ادھر رخ نہ کریں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔پس ہمارے انگریزی خواں طبقہ کو اس بات کی کوشش کرنا چاہئے اور اپنی خدا داد قابلیتوں کو استعمال میں لانا چاہئے۔ورنہ یہ حالت تو موت پر دلالت کرنے والی ہے۔میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ چپ رہے یا دکان کا مال اٹھا لے جائے اور وہ شور نہ مچائے۔حضرت مسیح موعود ہمارے باپ ہیں۔ان پر لوگ آواز میں کہتے ہیں اور ان پر اور ان کے عقائد پر گندے گندے اعتراض کرتے ہیں۔تو کیا ایسی واہیات باتیں گالی کے برابر نہیں جو تم سب خاموش ہو۔پھر یہاں تو فی الواقع گالیاں دی بھی گئیں۔تمہیں تو ان باتوں سے بہ نسبت گالیوں کے زیادہ غیرت ہونی چاہئے۔تین چار سال سے میں کوشش کر رہا ہوں کہ لوگ ایسے مضامین لکھیں۔کالج کے لڑکوں کو بھی میں نے مقرر کیا۔وہ مخلص بھی ہیں۔کام کرنا بھی چاہتے ہیں اور کام کرنے کی اہلیت بھی ان میں ہے لیکن وہ کرتے کچھ نہیں اور سستی میں پڑے رہتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جمود ہے اور یہ مرجھاتی ہوئی طبیعتیں ہیں۔حالانکہ وہ مومن ہیں اور مومن مردہ نہیں ہمیشہ زندہ ہے۔نبیوں کی جماعتوں کی زبان اور تحریر کو بھی خدا تعالی تیز کر دیتا ہے اور یہ انعام نبی کے ذریعے