خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 236

236 علمی رنگ میں تحریری طور پر اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا اسی طرح جواب دیں اور اس غفلت کو پھینک دیں کہ یہ مردنی کی علامت ہے۔لاشوں کے پاس لاشیں نہیں پہنچتیں۔لیکن زندے زندوں کے پاس پہنچتے ہیں وہ حی القیوم خدا جو زندہ ہے کب زندوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آئے گا۔اسی طرح مرکز تم اس کے پاس نہیں پہنچ سکو گے۔البتہ زندہ رہ کر تم اس کے پاس پہنچ سکتے ہو۔پس تم زندہ رہنے کی کوشش کرو۔نہ صرف خود زندہ رہنے کی بلکہ دوسروں کو بھی زندہ بنانے کی کوشش کرو۔جو عالم ہیں وہ اپنے رنگ میں جو عالم نہیں وہ اپنے رنگ میں۔جو انگریزی خواں ہیں وہ اپنے طرز پر اور جو انگریزی خواں نہیں ہیں وہ اپنی طرز پر اس کام میں لگ جاویں۔غرض تم میں سے کوئی نہ ہو جو اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق تبلیغ نہ کر رہا ہو۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی تمہاری فلموں میں زور بخشے اور تمہاری زبانوں میں طاقت عطا فرمائے۔اور تمہیں ہر قسم کی اہلیت اور قابلیت بخشے کہ تاسب تم میں سے خدا کا نام دنیا میں روشن کرنے کے لئے ہمہ تن مصروف ہوں اور اس کے جلال کے اظہار میں سب مشغول ہوں۔الفضل ۲۵ اگست ۱۹۲۵ء) ا الشعراء ١٤