خطبات محمود (جلد 9) — Page 223
223 ہے۔مثلاً ایک افسر جو فوج کے ایک بازو پر اپنے سپاہی لئے کھڑا ہے اور دشمن کو اس نے اپنے سامنے سے ہٹا دیا ہے اور دوسرے بازوؤں سے اچھا کام کیا ہے۔لیکن اس کی رپورٹ دوسرے افسروں کو نہیں کرتا اور بلا اطلاع دیئے آگے بڑھ جاتا ہے۔تو اس کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ دشمن کو اس بازو پر حملہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔جس کی حفاظت کرنے کے لئے وہ کھڑا تھا۔اور جب دشمن حملہ کرتا ہے۔تو باقی ماندہ فوج کو چونکہ یہ معلوم ہی نہیں کہ ہمارے آدمی یہاں سے ہٹ چکے ہیں۔اس لئے وہ مغالطہ میں رہتی ہے۔اور دشمن کو اپنا آدمی سمجھتی ہے اور یوں دشمن اپنے تھوڑے آدمیوں کے ساتھ ان کو شکست دے سکتا ہے اور اس طرح فتح شکست سے بدل جاتی ہے۔لیکن اگر اس نے اپنے کام کی رپورٹ کسی افسر بالا کو دی ہوتی تو وہ اس کو سمجھا سکتا تھا کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔اور اگر آگے بڑھنا مفید نہ ہوتا تو اسے کہتا کہ گو تم نے فتح پالی ہے لیکن آگے بڑھنا بقیہ فوج کے لئے مضر ہے۔اس لئے تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو اور یا اگر آگے بڑھنا مفید ہوتا تو کہ سکتا تھا کہ بے شک آگے بڑھو۔غرض رپورٹ دینے سے یہ فائدہ ہوا کرتا ہے کہ اس کے کاموں کی خبر رہتی ہے اور مرکز کی طرف سے اسے ضروری ہدایات دی جا سکتی ہیں۔تو نظام کی ضرورت ہی یہ ہوا کرتی ہے کہ اس بات کی خبر رکھی جائے کہ یہاں کیا حالت ہے اور وہاں کیا حالت ہے۔اگر مثلاً ایک جگہ سے رپورٹ نہیں آتی اور سیکرٹری سمجھ لے کہ وہاں کام اچھا ہوتا ہے۔حالانکہ وہ لوگ مرتد ہو رہے ہوں یا یہ سمجھے لے کہ وہاں کام بالکل نہیں ہو تا حالا نکہ وہاں زور سے کام شروع ہو اور لوگ گروہ در گروہ سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں۔تو اس صورت میں سیکرٹری کو باکل پتہ نہیں ہو سکتا کہ معاملات کو پیش کر کے مشورہ طلب کرے اور پھر لوگوں کو اس کی اطلاع دے سکے یا حسب حال ہدایات تحریر کر سکے۔پس اس لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے اپنے کاموں کی رپورٹیں بھیجی جائیں۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو کام کرنے اور کام نہ کرنے والے میں تمیز ہی نہیں ہو سکتی پس جیسا کہ کام نہ کرنے والا مجرم ہے ویسا ہی اطلاع نہ دینے والے بھی مجرم ہیں۔ہمارے باہر جانے والے مبلغ اپنے کاموں کی اطلاع نہیں دیتے غیر ممالک والے مبلغ بھی اپنے کاموں کی اطلاع نہیں دیتے سرکاری ملازم اگر ایسا کریں تو ان کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا جائے۔لیکن اصلاح کا کام گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔اس لئے گھر میں سے شروع کرتا ہوں اور نصیحت اور اخلاص کے طور پر کہتا ہوں کہ سیکرٹری ہوں یا نہ ہوں افراد جماعت اور مبلغین کا صرف یہ