خطبات محمود (جلد 9) — Page 224
224 کام نہیں کہ صرف کام کریں اور اس کی اطلاع نہ دیں بلکہ ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے کام کی مرکز کو اطلاع بھی دیں اور جب تک یہ نہ ہو گا کوئی برکت اور نتیجہ نہیں ہو گا۔پھر میں مرکزی دفتر والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی باہر کی رپورٹوں کا خیال رکھیں۔کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ یہاں والے ان باتوں کا خیال رکھنا یا ان کے متعلق مناسب کارروائی تو در کنار بعض دفعہ جواب بھی نہیں دیتے پھر بعض دفعہ تو ایسا الٹ پلٹ جواب لوگوں کو چلا جاتا ہے کہ حد ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ کسی دوست نے اپنے کسی کام کے متعلق مشورہ پوچھا۔یہاں سے اسے جواب گیا آپ کے لئے دعا کی گئی ہے۔مگر اس شخص نے پھر لکھا کہ میں نے تو فلاں کام کے متعلق مشورہ پوچھا تھا۔مگر آپ کی طرف سے جواب یہ آیا کہ آپ کے لئے دعا کی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ خط پڑھے بھی نہیں جاتے اور ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی جاتی۔سب سے پہلے میں دفتر ڈاک کو لیتا ہوں یہاں جو خط آتے ہیں۔ان کے متعلق میرا یہ طریق ہے کہ جس خط کا جواب میں نے خود دیتا ہوتا ہے۔اس پر لکھ دیتا ہوں جواب مجھ سے لیکن کئی کئی دن گزر جاتے ہیں کہ ان خطوں کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور وہ جواب کے لئے پیش نہیں کئے جاتے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باہر کے لوگ مست ہو جاتے ہیں پس مرکز کے لوگ اپنے کام کی طرف پوری پوری توجہ کریں موقع پر کام کو پورا کر دینا یہ ہر شخص کا ان سے میں سے فرض ہے۔وہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے چھ گھنٹہ کام کر دیا ہے۔یا دفتر کا وقت گزر گیا ہے۔ہماری حیثیت جنگ کے ایک سپاہی کی حیثیت ہے اور سپاہی ایسا نہیں کر سکتے۔یہ ایک عام میلان ہو گیا ہے کہ جب کبھی کوئی بات پوچھی جائے تو بعض کہہ دیتے ہیں جی دفتر کا وقت ہو گیا ہے۔حالانکہ اگر ضروری کام کے لئے آدھی رات بھی کام کرتے ہو جائے تو انہیں بیٹھنا چاہیے اور اگر کوئی کام انسانی طاقت سے بالا ہو یا اور آدمیوں کی مدد کے بغیر نہ ہو سکتا ہو تو وہ آدمی مانگ سکتے ہیں۔ان کے ذمہ کام کرتا ہے اور یہی ان کی ذمہ داری ہے۔چاہے روزانہ چھ چھ سات سات کیا نو نو دس دس گھنٹے بیٹھ کر بھی انہیں کام پورا کرنا پڑے۔لیکن یہ کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ دفتر کا وقت ہو گیا یا میں نے اتنے گھنٹہ کام کر دیا بعض دفعہ کسی ضروری بات کے متعلق پوچھا جاتا ہے۔تو کہہ دیتے ہیں کہ دفتر خالی ہیں وہاں کوئی نہیں میں یہ نہیں کہتا کہ چھٹی نہ ہو۔چھٹی ہو اور ضرور ہو۔مگر ہمارا تو جنگ کا سا معاملہ ہے۔جس طرح لڑائی میں اس بات کو جائز نہیں سمجھا جاتا کہ کوئی شخص یہ کہہ کے کام کرنے سے انکار کر دے کہ میں نے اتنے گھنٹہ کام کر دیا اسی طرح