خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 222

222 اگر وہ چپ ہو رہیں کہ بھرتی کا افسر آپ ہی سب کام کر لے گا اور آپ ہی جنگ میں چلا جائے گا تو ان کے متعلق یہ نہیں خیال کیا جائے گا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا۔بھرتی کے افسر کی تو ضرورت ہی یہی ہے کہ وہ بھرتی کرے۔جب تک دوسرے لوگ اس کام کو اس کی ماتحتی میں نہ۔۔۔کرائیں تو وہ اکیلا کچھ نہیں کر سکے گا اور نتیجہ یہ ہو گا کہ اس غلطی سے شکست ہو جائے گی۔ہماری جماعت میں اکثر تبلیغ کرنے والے موجود ہیں لیکن وہ اپنے کام کی رپورٹ نہیں بھیجے۔پھر بعض انجمنیں بھی ایسی ہیں کہ وہ تبلیغ تو کرتی ہیں۔لیکن ان کی طرف سے مرکز میں رپورٹ نہیں آتی اب مرکز کو کیا معلوم کہ ان کی تبلیغ کا کیا اثر ہو رہا ہے۔پس جماعت کے لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اگر وہ اس ذمہ داری کے سمجھنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو کسی سیکرٹری کی بھی انہیں ضرورت نہیں۔کیونکہ کسی سیکرٹری کا وجود بھی اسی وقت مفید پڑ سکتا ہے۔جب افراد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوں اور اپنے اپنے کام محنت سے کرتے ہوں اور اپنے کاموں کی نگرانی کئے جانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں کہ وہ ضرور کی جائے کہ تا باقاعدگی پیدا ہو۔پس میں اس امر کی طرف سب کو توجہ دلاتا ہوں اگر سستی کام نہ کرنے والوں کی وجہ سے ہے تو آپ کون سی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں کام نہ کرنے کی اگر یہی وجہ ہے کہ وہ ست ہیں تو ان کو چست بنا دو۔اگر وہ کام نہیں کرتے تو تم ان سے کام لو۔اگر وہ جاگتے نہیں تو آپ لوگوں کا فرض ہے کہ ان کو اٹھاؤ۔ایک اور نقص بھی ہوتا ہے جس سے کام میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں جب کام کر لیا تو ذمہ داری ختم ہو گئی لیکن یہ بالکل غلط ہے نظام میں یہ نہیں ہو سکتا۔البتہ افراد میں یہ بات ہو جاتی ہے کہ کام ختم کرنے کے بعد ذمہ داری ہٹ گئی۔لیکن نظام کے ماتحت جب کام ہو رہا ہوتا ہے۔تو کام کرنے کے بعد کام کرنے والے کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ باقی رہتی ہے اسے اپنے کام کی مرکز کو اطلاع دینا ہوتی ہے۔لیکن ایک شخص کام تو کر لیتا ہے۔اور اگر وہ کوئی رپورٹ نہیں دیتا تو وہ کام نہ کرنے والے کی طرح ملزم ہے۔نظام کی غرض یہی ہے کہ کام کرنے والا ہر ایک طرف برابر زور دے سکے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کوئی نظام نظام بھی نہیں کہلا سکتا۔فوج میں اپنے کام کی وقت پر رپورٹ نہ دینے سے افسر علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں اور اکثر انہیں سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ تو جان ہی سے انہیں مار دیا جاتا ہے۔کیونکہ کام کر کے اگر وہ اس کی رپورٹ اپنے افسر کو نہیں دیتے تو اس سے تمام فوج کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا