خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 221

221 انہیں سلسلہ کے کاموں کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور سیکرٹریوں کے مقرر ہو جانے کے باوجود اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھنا چاہیے اور ساتھ ہی محبت بھی ہونی چاہیے۔، یہ نظام جماعت کو قام رکھنے اور سلسلے کے کام چلانے کے لئے کیا گیا ہے اور اس کے ماتحت سیکرٹریوں کو بھی مقرر کیا گیا ہے اور گو کہ اس کے کارکن بظاہر اس کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں مگر اس کام کے چلانے کی نگرانی کرنا پھر بھی ہمارے سپرد ہے۔دین سے اگر محبت ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک شخص باوجود ایک انتظام قائم ہو جانے کے کس طرح ان کاموں کی ذمہ داری سے بری ہو سکتا ہے۔اگر کام خراب ہو رہا ہے اور جماعت میں احساس نہیں تو وہ قطعاً خدا کے سامنے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالٰی نے سیکرٹریوں کا انتظام مقرر نہیں کیا بے شک یہ انتظام خدا نے نہیں کیا اور اس کی توفیق کے ماتحت ہم نے کیا لیکن جو کچھ بہتر نظر آیا وہی کیا اور اب بھی اگر اس سے بہتر کوئی اور انتظام نکل آئے تو وہ بھی کرنے کو تیار ہیں۔لیکن کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ قرآن و حدیث میں انتظام کی ضرورت بیان نہیں۔یا نظام سلسلہ کو قائم اور سلسلے کے۔کاموں کو جاری رکھنے کے لئے جو بندوبست کیا گیا ہے۔اس سے اس کی ذمہ داری ہی مل گئی۔قرآن و حدیث سے تو امارت کا وجود ثابت ہوتا ہے اور اس میں بھی ہر ایک شخص ذمہ دار ہے۔نہ کہ صرف وہی جو امارت پر قائم ہے۔حدیث میں آیا ہے تم میں سے ہر ایک شخص پوچھا جائے گا۔کلکم راع وكلكم مسئول عن رعیتہ تم میں سے ہر ایک شخص خواہ وہ امیر ہے یا نہیں پوچھا جائے گا اور اسکی ذمہ داری کے متعلق خدا اس سے سوال کرے گا پس تمام کے تمام افراد مسلمانوں کے ذمہ دار ہیں اور قیامت کے دن اپنی اپنی ذمہ داری سے پوچھے جانے والے ہیں۔اگر کام خراب ہو اور دوسرے لوگ توجہ نہ کریں تو وہ بھی جواب دہ ہیں نہ کہ صرف سیکرٹری پس میں تمام مجلس میں ان کا ذکر کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ سیکرٹری کام کرے اور دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور یہ نہ خیال کریں کہ چونکہ سیکرٹری مقرر ہو چکے ہیں۔ہمیں اب کام کرنے کی ضرورت نہیں سیکرٹری اس غرض کے لئے ہے کہ کام کرائے نہ کہ کرے۔سیکرٹری کام کرنے کے لئے مقرر نہیں ہوتے بلکہ کام کرانے کے لئے مقرر ہوتے ہیں۔لوگ اگر جنگ کے موقع پر یہ سمجھ کر کہ بھرتی کا افسر مقرر ہو گیا ہے۔کام سے غافل ہو جائیں اور بھرتی نہ کروائیں تو کیا یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے کام کو کر رہے ہیں۔ہر گز نہیں یا