خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 220

220 سکے گا۔یہاں ملازمت کا سوال نہیں۔یہاں جماعتی نظام کا سوال ہے اور کام کرنے کا سوال ہے۔اس لئے عام مجلس میں میں اسے بیان کر سکتا ہوں۔ممکن ہے کوئی اس سے سمجھ لے کر صرف سیکرٹری ہی مخاطب ہیں۔اس لئے میں بتا دیتا ہوں کہ یہاں صرف سیکرٹری ہی مخاطب نہیں۔بلکہ افراد جماعت بھی مخاطب ہیں۔کیونکہ ایک سیکرٹری ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔ممکن ہے وہ بدل دیا جائے۔ممکن ہے وہ ناقابل ثابت ہو۔ممکن ہے کہ وہ خود ہی کام کو چھوڑ جائے ممکن ہے کہ وہ فوت ہو جائے۔پس بیسیوں ذرائع اور سبب ایسے ہو سکتے ہیں کہ وہ سبکدوش ہو جائے۔اس لئے صرف سیکرٹریوں کو مخاطب نہیں سمجھنا چاہیے۔بلکہ جماعت کے افراد سارے کے سارے ہی مخاطب ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کی بنیاد ڈالی ہے۔اور خدا نے اس کے کام صرف سیکرٹریوں پر نہیں ڈالے بلکہ جماعت کے تمام لوگوں پر ڈالے ہیں۔ایک اکیلا سیکرٹری کر ہی کیا سکتا ہے جب تک دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ مدد گار نہ ہوں۔پس یہ ذمہ داری نہ صرف اکیلے سیکرٹری کے سر ہے۔بلکہ ساروں کے سر ڈالی گئی ہے۔ایسا ہی کسی خاص شخص کا نام قرآن کریم میں نہیں پکارا گیا کہ اے فلانے تو کام کریا اے سیکرٹریو تم کام کرو۔بلکہ وہاں تو تمام کے تمام مسلمانوں کو پکارا گیا ہے کہ تم سب یہ کام کرو۔پس یہ تو ایک تقسیم عمل ہے۔جو کی گئی ہے اور اس تقسیم عمل کے ذریعے وہ بچ نہیں گئے کہ چلو یہ کام سیکرٹریوں کے ہو جا پڑا بلکہ کام بدستور جماعت کے لوگوں کے سر پر ہے۔لیکن ہاں ایک اختیار ان کو مل گیا ہے کہ وہ کہیں اور لوگ مانیں پس نہ صرف سیکرٹری ہی سلسلہ کے کاموں کے ذمہ دار ہیں۔بلکہ باقی لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔پھر سلسلہ کے کاموں کے لئے محبت بھی ہونی چاہیے کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے۔وہاں ذمہ داری نہیں دیکھی جاتی اور ایک شخص یہ کہہ کر کہ میری ذمہ داری ہیں تک تھی سلسلہ کے کاموں سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔مدرسے میں داخل کر کے باپ اس ذمہ داری سے علیحدہ نہیں ہو سکتا جو بچے کے متعلق اس کے سر ہے اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ تربیت کے لئے کسی دوسرے کے سپرد کر کے ماں بیٹھ جائے۔اور سب خیال چھوڑ دے اور کہے کہ اب مجھے اس کی کیا فکر ہے۔آپ ہی آپ اس کی تربیت ہو جائے گی۔پس جس طرح وہ اپنے بچے کو دوسرے کے سپرد کر کے اس کی طرف سے بے پرواہ نہیں ہو جاتے بلکہ انہیں خود بھی سب باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اسی طرح