خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 197

197 کہ کوئی بدنیتی سے پاؤں رکھے مگر وہ جو غلطی سے یا غفلت سے ایسا کرتا ہے۔وہ نصیحت کا مستحق ضرور ہے کہ اس کی بے احتیاطی اور غفلت سے دوسرے پر پاؤں پڑ گیا۔مگر وہ غصے کا مستحق نہیں۔اب اگر غصے کو صحیح طور پر استعمال کیا جاتا تو اس کے اخلاق بھی اعلیٰ رہتے اور اس کے علاوہ اس طاقت کو روکنے کی وجہ سے اس کو کئی اور نیکیوں کی بھی توفیق ملتی۔اخلاق فاضلہ اس کا نام ہے کہ انسان طبعی تقاضوں کو شریعت کے مطابق استعمال کرے۔پس جو طاقتیں خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی ہیں۔اگر انسان ان کو روکتا اور محفوظ رکھتا رہے۔تو اتنا بڑا خزانہ اس کے پاس جمع ہو جائے کہ کروڑ پتیوں سے بھی زیادہ مالدار ہو سکتا ہے۔اللہ تعالٰی ہم کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم ایسے رنگ میں اپنے اخلاق اپنی عادات میں تبدیلی پیدا کریں کہ دوست اور دشمن بھی یہ مان جائیں کہ حضرت مسیح موعود کو قبول کر کے ہم نے ایسی تبدیلی اپنے اندر پیدا کی ہے کہ اس کے لئے ہر ایک قسم کا دکھ اور تکلیف اٹھانا بالکل بیچ ہے۔الفضل نے جولائی ۱۹۲۵ء)