خطبات محمود (جلد 9) — Page 196
196 سے بہت بڑے بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح غصہ بھی ایک طاقت ہے اگر اس کو بھی روک لیا جائے۔اور قابو میں کر لیا جائے تو اس سے بعض اور اعلیٰ درجے کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں اسی طرح مال کے جمع کرنے کی خواہش جو حرص کی حد سے نیچے نیچے ہو۔بہت کی نیکیوں اور دین کے کاموں کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔برخلاف اس کے بعض طبعی تقاضوں کو اگر ان کی مناسب حد سے زیادہ روکا جائے تو وہ اور برے اخلاق پیدا کرنے کا موجب ہو جاتے ہیں۔مثلاً یہ کہ بعض بچے جب کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں۔تو کھیل کی خاطر پاخانہ پیشاب روکے رکھتے ہیں۔بڑی عمر میں ایسے لڑکوں کی طبیعت میں بجل پیدا ہو جاتا ہے۔حالانکہ کہاں پاخانہ اور پیشاب کا روکنا اور کہاں مال جمع کرنا اور بخل کا پیدا ہو جانا۔مگر یہ ایک تجربہ شدہ حقیقت ہے کہ ایسے بچے 99 فی صد بڑی عمر میں جا کر بخل کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اور ان میں سے ایک فی صد کو بھی میں اس لئے مستقلی کرتا ہوں کہ بعض دفعہ اور مادی امور ان کے اس بخل کے اثر کو بدل دیتے ہیں۔پاخانہ پیشاب کا روکنا ایک مادی امر ہے۔لیکن اس سے طبیعت میں بخل پیدا ہو جاتا ہے۔غرض اگر طاقتوں کو مناسب اور صحیح طریق سے محفوظ کر لیا جائے اور موقع اور محل کے مطابق ان کو صرف کیا جائے۔تو بہت سے عمدہ اخلاق اور اعمال کا موجب ہو سکتی ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر روپیہ کسی جواریے کو دیا جائے گا تو وہ اسے جوئے میں صرف کر دے گا۔اور اگر کسی نیک آدمی کو دیا جائے گا تو وہ دین کے کام میں صرف کرے گا۔تو جو طبعی تقاضے ہیں ان کو صحیح مصرف کے لئے اگر روکا نہ جائے تو پھر وہ طاقتیں انسان کے اختیار سے باہر ہو جاتی ہیں۔اور پھر فورا وہ ان پر تصرف نہیں کر سکتا۔جیسے کہ ایک موٹر چلانے والا جب موٹر کو حد سے زیادہ تیز چلا بیٹھتا ہے۔تو اس کو جلد قابو میں نہیں لا سکتا۔قابو میں لانے کے لئے کچھ وقت چاہیے۔یہی حال طبعی تقاضوں کا ہے کہ جب وہ جوش میں آتے ہیں۔تو ان کو بھی حد اعتدال کے اندر لانے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔اس لئے رسول کریم اللہ نے فرمایا ہے کہ جب غصہ آئے تو پانی پی لو کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔تا جو زائد غصہ ہے اور طرف خرچ ہو جائے اور اتنا ہی باقی رہے جو جائز اور مفید ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا پاؤں اگر کسی کے ہاتھ پر پڑ جاتا ہے۔تو بہت غصہ کا اظہار کرتا اور زبان سے ایسے کلمات نکالتا ہے کہ اگر کوئی موقع ایسا ہوتا کہ اس کا پاؤں کسی پر پڑ جاتا اور وہ وہی کلمات کہتا تو کبھی پسند نہ کرتا۔غصہ کرنے کا موقع تو تب ہے