خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 198

198 25 ہر ایک اخلاقی مجرم چشم پوشی کے قابل نہیں (فرموده ۱۰ جولائی ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : چونکہ آج میری طبیعت اچھی نہیں۔بخار کی کی شکایت ہے اس لئے اس وقت میں کوئی لمبی تقریر نہیں کرنا چاہتا۔مختصراً ایک اعتراض کا جو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے جواب دیتا ہوں۔ایک شخص نے مجھے خط لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر میرا کوئی مرید شراب کے نشے سے مخمور کسی گلی کی نالی میں پڑا ہو۔تو میں بڑی شفقت سے اس کا منہ صاف کروں اور کندھے پر اٹھا کر اپنے گھر لے آؤں۔اس سے معترض کی مراد یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کا مغز یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرعی اور اخلاقی مجرموں کو کوئی سزا نہ دینی چاہیے۔ہمارا کام زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ اس کو وعظ اور نصیحت کریں۔مگر آپ سزا دینا چاہتے ہیں۔یہ سوال اگر حقیقت کے سب پہلوؤں کو مد نظر نہ رکھا جائے تو ایک حد تک سکتا ہے۔لیکن اگر مغز شریعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے اصلی منشاء کو مد نظر رکھا جائے۔تو آپ کی اس تعلیم پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر خاص معنی رکھتی ہے۔جب آپ نے یہ فرمایا کہ اگر میرا کوئی دوست شراب سے مدہوش پڑا ہو۔تو میں اسے اپنے گھر اٹھا لاؤں گا تو اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ اگر آپ کا کوئی مرید شراب پیتا ہے تو آپ اس کے لئے کوئی سزا جائز نہیں سمجھتے۔درست ہو رسول کریم نے جب شراب پینے والے کے لئے حد مقرر فرمائی ہے۔(1) تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کے ایسے معنی کرنا غلطی ہے۔ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ نے شرابی کے لئے حد مقرر کرنے میں غلطی کی ہے۔اور اگر یقیناً آپ