خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 192

192 بڑا ذریعہ ہے۔اس لئے ایک تو میری یہ نصیحت ہے کہ آپ لوگ مراقبہ کیا کریں۔یعنی اپنے اعمال کا محاسبہ اور اپنے نفس کی نگرانی کیا کریں۔اس ذریعہ سے بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ جن باتوں کو کوئی شخص اپنی بد عادات کے اثر کے ماتحت نیکیاں خیال کرتا تھا وہ تو بدیاں ہیں۔اور اس طرح بہت آسانی سے وہ اپنے اخلاق کی اصلاح کر سکے گا۔ہے عادت کے علاوہ ایک اور چیز بھی اخلاق فاضلہ کے حصول میں روک ہے۔اور وہ قانون قدرت ہے۔شائد آپ لوگ تعجب کریں گے کہ قانون قدرت تو اخلاق فاضلہ کے حصول میں محمد ہونا چاہیے وہ روک کیسے ہو سکتا ہے۔مگر اصل بات یہی ہے کہ قانون قدرت بھی اخلاق فاضلہ کے حصول میں روک ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے کہ انسان کو جس چیز کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس کے پورا کرنے کے لئے سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ان سامانوں کو موقع و محل کے مطابق استعمال کرنے کا نام اخلاق فاضلہ ہے۔لیکن اگر ان طبعی تقاضوں کو جو خدا تعالیٰ نے انسان کے پیدا کئے ہیں۔کوئی صحیح طور پر استعمال نہیں کرتا۔تو ایسا انسان با اخلاق نہیں کہلا سکتا۔اور نہ وہ شخص با اخلاق کہلا سکتا ہے جو اپنے طبیعی تقاضوں کو بالکل مار ڈالتا ہے۔بلکہ ان طبعی تقاضوں کو بر محل استعمال کرنے کا نام اخلاق فاضلہ ہے۔مثلا غصہ ایک طبعی تقاضا ہے۔جو اس غرض کے لئے رکھا گیا کہ انسان اس کے ذریعہ کسی مقابلہ کرنے والے کو روکے۔اور اس کے ذریعہ مظالم کو بڑھنے نہ دیا جائے۔گویا دوسرے کو اس کے ظلم کرنے اور نیکی کو مٹانے کی کوشش سے روکا جائے۔اسی طرح انتقام ہے جو غصہ کا عملی پہلو ہے۔بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے تیور دیکھ کر اور اس کے چہرہ سے غصہ کے آثار معلوم کر کے متاثر ہو جاتے ہیں اور ظلم اور بدی ترک کر دیتے ہیں۔لیکن بعض انسان ایسے بھی ہوتے ہیں۔جو چہرہ کے اثرات تو الگ رہے۔زبان سے کہہ دینے سے بھی متاثر نہیں ہوتے۔بلکہ وہ سزا اور انتقام چاہتے ہیں۔غصہ کا پہلا درجہ تو یہ ہے کہ قلب میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔اور اس سے انسان کی اپنی اصلاح ہوتی ہے۔کیونکہ اس کو یہ پتہ لگتا ہے کہ یہ فعل اچھا ہے یا برا۔یہ فعل کرنا چاہیے۔یہ نہ کرنا چاہیے گویا کسی چیز سے نفرت پیدا ہونے سے دوسرے کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اپنی اصلاح ہوتی ہے۔دوسرا درجہ غصہ کا یہ ہے کہ آنکھوں اور چہرے سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔اور تیسرا درجہ یہ ہے کہ سزا دی جائے غرض کبھی تو دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے اور انسان سمجھتا ہے اس بات سے مجھے دکھ ہوا ہے۔دوسروں کو بھی اس سے دکھ ہو گا اس سے بچنا چاہیے۔اس طرح اس کے اپنے نفس کی اصلاح ہوتی ہے۔اور کبھی چہرے سے غصہ کا