خطبات محمود (جلد 9) — Page 193
193 اظہار کرتا ہے اور جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو دانت بھی پیتا ہے۔کبھی آنکھیں نکالتا ہے۔اور چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔اور جوش کے مارے اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے مرگی کا دورہ۔پھر دوسرا قدم غصہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس غصے کا اظہار زبان سے کرتا ہے۔کیونکہ بعض لوگ اتنی قابلیت اور سمجھ نہیں رکھتے۔کہ وہ چہرے سے غصہ کے آثار معلوم کر کے اپنی حرکت سے باز آجائیں۔یا بعض طبیعتوں کے انسان چہرہ پر غصہ کے آثار معلوم کر کے بھی متاثر نہیں ہوتے۔لیکن دوسرے کا زبان سے غصہ کا اظہار ان پر اثر کرتا ہے اور وہ بدی سے رک جاتے ہیں۔اس سے بڑھ کر تیسرا قدم غصہ کا وہ ہے جب انسان سزا دیتا ہے۔اس سے ان لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے جن پر زبان کے ذریعے غصہ کا اظہار کچھ اثر نہیں کرتا۔اور وہ اپنی حرکات سے باز نہیں آتے۔لیکن یہی صورتیں غصہ کی جن سے انسان کی اپنی اور دوسروں کی اصلاح ہوتی ہے۔جب حد سے تجاور کر جاتی ہے تو بد اخلاقی کہلاتی ہیں۔مثلاً جب انسان غصہ سے ایسا بھر جائے کہ اپنی۔اس کی دیوانوں کی سی حالت ہو جائے۔ایک کتے کے پاس تو لوگ جانا پسند کریں۔لیکن اس وقت اس کے پاس جانا گوارا نہ کریں۔یا زبان سے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اتنا حد سے بڑھ جائے کہ گالی پر گالی دیتا جلا جائے۔تو یہ اس کی بد اخلاقی بن جائے گا۔اور قانون قدرت نے انسان کے اندر غصہ کا مادہ اس لئے رکھا ہے کہ اس کے ذریعہ وہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔اس کی حد سے تجاوز کر کے اسے بد اخلاقی بنا لیتا ہے۔اس سے بڑھ کر غصے کا جو مرتبہ ہے وہ انتقام اور بدلہ ہے۔جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا قاتل کو قتل کرنا۔لیکن بدلہ لینے کے لئے بھی موقع اور محل ہوتا ہے۔اور یہ بھی اس وقت تک جائز اور درست ہو سکتا ہے کہ موقع اور محل کے مطابق ہو۔لیکن اگر اس میں انسان موقع کا خیال نہ کرے اور حد سے نکل جائے تو یہ بھی بد اخلاقی ہو جائے گی۔مثلاً اگر کسی کی انگلی کسی کے پاؤں کے نیچے دب جائے تو اسے طبعا" غصہ آجائے گا انتقام اور بدلہ کی خواہش بھی پیدا ہو گی مگر اس وقت دیکھنا یہ ہو گا کہ بدلہ لینے کا موقع اور محل بھی ہے یا نہیں گو برابر کی سزا جائز اور اخلاق کے اندر داخل ہے۔لیکن اگر کسی کا پاؤں غلطی سے اس کی انگلی پر پڑ گیا ہو تو پھر اس سے بدلہ لینا بد اخلاقی ہو گی۔کیونکہ بدلہ بد نیتی پر موقوف ہے۔ہاں اس کی غفلت کہلائے گی۔اور اس وجہ سے وہ نصیحت کا تو مستحق ہے۔لیکن سزا کا مستحق نہیں۔اسی طرح اگر ایک چھوٹے بچے نے تھپڑ مار دیا ہو۔تو یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر اس سے برابر کا بدلہ لیا جائے تو کیا وہ اس کی برداشت کی طاقت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔اگر بچہ سے برابر کا بدلہ لیا