خطبات محمود (جلد 9) — Page 191
191 پاس اس کا رقعہ آجاتا ہے کہ آپ نے مجھے کافر کہا۔منافق کیا اور بے دین بنایا۔اور جب پوچھا جاتا ہے کہ کب تم کو کافر بے دین کہا گیا تو کہتا آپ نے مجھے جلد باز کہا ہے۔حالانکہ مومن کی شان جلد بازی کرنا نہیں۔اور جب میں مومن نہیں تو کافر ہوا۔لیکن اگر اس طرح سے بات کو پھیلایا جائے تو کیسی ہی نیک نیتی سے بات کیوں نہ کی جائے۔انسان اس کو برے سے برے پیرائے میں ڈھال سکتا ہے۔اسی طرح بری سے بری بات کو نیکی کا جامہ پہنا سکتا ہے۔یہ عادات کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ انسان ان کے مقابلہ میں کمزوری دکھا کر اخلاق کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا۔بلکہ ان عادات کے نیچے ایسا دب جاتا ہے۔کہ بد اخلاقی کو بھی اخلاق شمار کرنے لگ جاتا ہے۔حالانکہ وہی بات اگر خود اسے پیش آجائے تو ایک شور برپا کر دے۔۔لیکن دوسرے کے متعلق اپنے اس فعل کو عیب یا بد اخلاقی قرار نہیں دیتا۔پس اخلاق فاضلہ کے حصول میں ایک تو اپنے ارادے کی کمزوری دوسرے انسان کی عادت روک ہوتی ہیں۔اس لئے اعلیٰ اخلاق کے حصول کے لئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ انسان اپنی بد عادات کی اصلاح کرے اور ان کے اثرات سے بچنے کی کوشش کرے۔جس کا طریق یہ ہے کہ وہ مراقبہ کرے مسلمانوں کی بد قسمتی سے مراقبہ کے بہت برے معنی ان میں رواج پا گئے ہیں۔اس کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ انسان اپنے اعمال پر غور کرے۔اپنے اعمال کی نگرانی کرے۔مثلاً اگر کسی سے اس نے اپنا کوئی حق لینا ہے۔اس حق لینے میں اس نے جو طریق اختیار کیا ہے۔اس پر غور کرے کہ اگر میں لینے کی بجائے دینے والا ہوتا اور میرے ساتھ ایسا طریق اختیار کیا جاتا تو میں اس کو اخلاق قرار دیتا یا بد اخلاقی یا جو بات میں نے دوسرے کے متعلق کمی ہے اگر وہی بات میرے متعلق کوئی کہتا تو میں کیا سمجھتا۔پس مراقبہ کے معنی تو یہ تھے کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کیا جائے۔لیکن آہستہ آہستہ بد قسمتی سے اب مراقبے کے یہ معنی ہو گئے ہیں کہ سر نیچے کر کے بعض الفاظ رٹے جائیں۔حالانکہ اس کے معنی نفس کی نگرانی کرنا ہے۔اس لئے صوفیاء کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ علیحدگی میں اپنے نفس کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔کیونکہ اس وقت جوش ٹھنڈے ہو چکے ہوتے ہیں اور اخلاق کا صحیح اندازہ ہو سکتا ہے۔جب انسان علیحدگی میں سوچتا ہے۔تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ میں نے دوسرے کے ساتھ کیا ہے وہی کچھ اگر کوئی میرے ساتھ کرتا تو میں یقیناً اسے ظالم یا جھوٹا یا فریبی قرار دیتا۔اس طرح اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ جس بات کی وجہ سے وہ دوسرے کو برا کہہ رہا تھا اسی بات کا وہ خود مر تکب ہوا ہے۔تو مراقبہ اخلاق فاضلہ کے حصول اور اخلاق رزیلہ سے بچنے کا ایک بہت