خطبات محمود (جلد 9) — Page 190
190 حصہ پھر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اخلاق فاضلہ کا تعلق عادات سے ہے تو ان کے حصول میں اور بھی مشکل بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ عادات ان میں حائل نہیں ہوتیں۔اس لئے ان کا حصول آسان ہوتا ہے۔چونکہ انسان کا ذہن اس چیز کو اس کے سامنے حاضر رکھتا ہے۔اس لئے اس کے لئے یکسوئی پیدا کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہوتی۔لیکن جو امور عادات سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان کی عادات ان امور کے خلاف ہوتی ہیں ایسی حالت میں انسان ان کی طرف یکسوئی بھی پیدا نہیں کر سکتا۔مثلاً ایک شخص یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ میں علم حاصل کروں گا۔یا مکان بنواؤں گا۔بے شک اس کو محنت کرنی پڑے گی۔روپیہ صرف کرنا پڑے گا۔لیکن علم حاصل کرنے کا یا مکان بنانے کا خیال بھلانے والی مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔لیکن اخلاق فاضلہ کے حصول کا انسان ارادہ بھی کرے تو اس کی عادتیں ہر ایک قدم میں اس کے لئے روک ہوتی ہیں۔کیونکہ وہ قلبی کیفیات اور اعمال ماضیہ کے اثر کے نیچے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔جو شخص کہ عمر کا ایک بڑا ظالمانہ رنگ میں بسر کرتا ہے آہستہ آہستہ اس کو اپنا ظلم بھی رحم نظر آنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح جو شخص جھوٹ کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔وہ اپنے جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگ جاتا ہے۔اور اس کو سچ بنانے کے لئے بیسیوں جائز و ناجائز حیلے بہانے بناتا ہے۔اس طرح جس کو خیانت کی عادت پڑ چکی ہو وہ خیانت کو امانت سمجھنے لگ جاتا ہے۔جس کو بد گوئی اور بد کلامی کی عادت ہو چکی ہو وہ آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ وہ کسی کا دل نہیں دکھا رہا۔بلکہ حق بات اور مناسب بات کہہ رہا ہے۔ایسے لوگ ظلم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم تو کسی پر ظلم نہیں کرتے۔ایسی حالت میں اخلاق فاضلہ کے حصول کا محض ارادہ کر لینا ہی کام نہیں دے سکتا۔ایک شخص پورے زور کے ساتھ یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ میں ظلم نہ کروں۔لیکن جب موقع اور وقت آتا ہے تو وہ اپنی عادت سے مجبور ہو جاتا ہے اور ظلم کرتے ہوئے پھر کہتا ہے کہ میں ظلم نہیں کرتا۔یہی حال دوسری بد عادات کا ہوتا ہے۔اخلاق کی درستی تب ہی ہو سکتی ہے۔جب انسان یہ سمجھے کہ مجھ سے بد اخلاقی ہوئی ہے لیکن جو شخص اخلاق میں ایسا گر جاتا ہے کہ صراحتاً گالیاں دیتا ہے۔اور پھر کہتا ہے میں تو گالی نہیں دیتا۔حالانکہ وہ اپنے متعلق ایک چھوٹی سی بات کو بھی پہاڑ کے برابر بنا لیتا ہے۔ایسے شخص کو اخلاق کی درستی کے لئے اس کا ارادہ بھی اس کو کچھ نفع نہیں دے سکتا۔حضرت خلیفہ اول بعض آدمیوں کا مثال کے طور پر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ان میں سے کوئی مجھے رقعہ لکھتا ہے اور میں درس میں نصیحت کے لئے اس رقعہ کا ذکر کرتا ہوں اور وہ شخص بھی موجود ہوتا ہے تو دوسرے دن جھٹ میرے