خطبات محمود (جلد 9) — Page 189
189 انسان مفت کی چیز خیال کرتا ہے۔لیکن جس چیز کو وہ مفت خیال کرتا ہے۔اسے خدا تعالیٰ نے مکھیوں کے ڈنکوں کے نیچے رکھا ہوتا ہے۔پہلے وہ ان کے ڈنک برداشت کرتا ہے۔یا برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔محنت اٹھاتا ہے۔تب کہیں جا کر اسے شہد نصیب ہوتا ہے۔اسی طرح پانی ہے جس پر انسان کی زندگی کا دار و مدار ہے۔چونکہ انسان کی زندگی کے قیام کے لئے پانی کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے اس لئے اس کا سہل الحصول ہونا بھی ضروری ہے۔مگر پانی کو بھی خدا تعالیٰ نے ہزاروں منوں مٹی کے نیچے رکھا ہوتا ہے۔اور جب کنواں نکل آئے تو ڈول ڈالنا اور کھینچنا پڑتا ہے۔صرف ایک ہی چیز ہے۔جو انسان کو مفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس لئے کہ اس کے بغیر ایک منٹ بھی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔غافل ہو یا ہوشیار ہو، سوتا ہو یا جاگتا۔ہر حالت میں اسے اس کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہوا ہے اگر یہ بھی انسان کو مفت نہ ملتی تو وہ مرجاتا مگر باوجود اس کے یہ ہوا بھی بعض حالات میں نہایت قیمتی ہو جاتی ہے۔مثلاً صحت کمزور ہو جاتی ہے۔سل وغیرہ بعض ایسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں کہ تبدیلی ہوا کے لئے پہاڑ پر یا سمندر کے کنارے یا ریتلے میدان کی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس کے لئے سینکڑوں روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔تو کبھی کبھی ہوا جیسی عام اور سهل الحصول چیز بھی قیمتی ہو جاتی ہے۔پس جب ہر ایک چیز کے حصول کے لئے انسان کو محنت اور مشقت کرنی پڑتی ہے تو کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ اعلیٰ درجے کی روحانی ترقی اور اخلاقی مراتب کے حصول کے لئے یہ چاہے کہ اس کو کوئی محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے۔اور وہ یونسی سفلی اور ادنی زندگی سے نکل کر اعلیٰ اور ارفع مقام پر پہنچے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسی عظیم الشان نعمت کے حصول کے لئے اسے کچھ بھی محنت اور کوشش نہ کرنی پڑے۔اگر بیر توڑنے کے لئے پہلے کانٹوں کی تکلیف برداشت کرنا ضروری ہے۔اگر پھولوں کے حصول کے لئے مشقت اٹھانی اور مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔اگر پانی کے لئے ڈول ڈالنا اور پھر کھینچنا پڑتا ہے۔اور شروع میں کنواں کھودنا پڑتا ہے۔تو پھر وہ اخلاق فاضلہ کہ جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کا قرب اور وصل حاصل کر سکتا ہے۔بغیر محنت اور مشقت کے کسی طرح حاصل ہو سکتے ہیں۔پس اخلاق فاضلہ کے حصول کے لئے یہ خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ وہ کوئی پڑی ہوئی چیز ہے۔جو یونہی مل جائے گی۔یا کسی کا کھویا ہوا متاع ہے جو یونی دستیاب ہو جائے گا۔جب تک دوسری چیزوں کی طرح ان کے حصول کے لئے بھی پوری محنت اور کوشش نہ کی جائے اس وقت تک انسان اخلاق فاضلہ کے حصول سے محروم رہتا ہے۔