خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 186

186 میرا جسم نہیں دکھتا اس لئے میں خوش ہوں۔اس طرح اگر جماعت میں ایک فرد بھی کمزور ہو تو اس کا ساری جماعت پر اثر پڑے گا۔دیکھو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔تمام انسان ایک جسم کے اعضاء کے طور پر ہیں۔پس اگر ایک کو تکلیف ہو گی۔تو دوسرے کو بھی ہوگی۔اور کوئی ایسی جماعت کامیاب نہیں ہو سکتی۔جو یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے سب کے سب افراد ایک معیار تک پہنچے ہوئے ہیں۔ہمیں حضرت مسیح موعود کے آنے کی خوشی تبھی ہو سکتی ہے۔جب ہم اخلاق میں ، اعمال میں، سچائی میں ، عدل میں ، غرباء پروری میں ، خوش خلقی میں ، حقوق العباد ادا کرنے میں دوسروں سے امتیاز رکھتے ہوں۔جب تک ایک احمدی میں یہ باتیں نہیں پیدا ہوتیں۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کا اسے فائدہ پہنچا۔احمدی بننے کا سب سے پہلا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر رنگ میں اعلیٰ نمونہ کا خیال پیدا کرو۔جب یہ خیال پیدا ہو گا تو وہ ایک بیج کی طرح ہو گا۔جس سے آگے عمل پیدا ہو گا۔اگر کسی میں عمل پیدا نہیں ہوتا۔تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس میں خیال ہی نہیں ہے۔کیونکہ اگر خیال ہو گا۔تو عمل بھی ضرور پیدا ہو گا۔بے شک ایمان نجات کا باعث ہوتا ہے۔مگر وہی ایمان جو اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کے بعد انسان عمل سے رک ہی نہیں سکتا۔اور ایسے لوگ اخلاق فاضلہ چھوڑ ہی نہیں سکتے اور وہ صرف اپنے ہی اخلاق کی اصلاح نہیں کرتے بلکہ اس وقت تک انہیں اطمینان نہیں آتا۔جب تک دوسروں کے اخلاق کی اصلاح نہیں کر لیتے عام لوگ ایسے امور کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو گناہ نہیں ہوتے۔اور اگر گناہ ہوتے ہین تو ان کی ذات سے تعلق نہیں رکھے۔مگر جن اخلاق اور عادات کے متعلق انہیں قربانی کرنی پڑتی ہے۔ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ ان کی طرف توجہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور انہی کی طرف توجہ نہ کرنے سے بنی نوع انسان کی ترقی میں نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں دیکھتے اور تنکوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ اس طرف توجہ کریں اور اب اس بارے میں غفلت نہ کریں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بحیثیت جماعت ہم نے کوئی خاص نمونہ نہیں دکھایا اب بھی اگر ہم نے اس طرف توجہ نہ کی۔تو ہمارے لئے تبلیغی میدان بند ہو جائیں گے اور یہ مٹھی بھر جماعت جو اس وقت ہے خدانخواستہ مفقود ہو کر ہم ایک خطرناک گناہ کے مرتکب ہوں گے اس کا وبال دجال کے لئے نہیں۔بلکہ ہمارے لئے ہو گا کہ وہ تعلیم جسے خدا تعالیٰ نے دنیا کی نجات کے لئے بھیجا۔اس کے بند کرنے اور اس پر پردہ ڈالنے والے ہم ہوں گے۔