خطبات محمود (جلد 9) — Page 185
185 نہ تھوکا جائے۔قران کریم کی تعلیم لوگوں کو اپنی خوبی اور صداقت کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔لیکن جب وہ لوگ مسلمانوں کے پاس آتے ہیں تو ان کے بد نمونہ کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔غرض اس بات کا نتیجہ نہایت مملک نکلا ہے۔کہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم اور شفاعت کا نہایت اعلیٰ مسئلہ جو ترقی کی طرف لے جانے والا تھا۔اس سے مسلمانوں نے ٹھوکر کھا کر اپنے آپ کو ہر پہلو میں کمزور بلکہ قابل نفرت بنا لیا ہے۔اور یہ بات ان کی تباہی کا موجب ہو گئی ہے کہ انہوں نے اخلاق کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔میں اپنی جماعت کو اس وقت اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اعلیٰ اخلاق کی اہمیت کو سمجھیں کیونکہ اہمیت سمجھے بغیر کوئی تعلیم کوئی کام اور کوئی عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔مثلاً اگر کسی شخص کو احمدی ہوتے وقت یہ احساس نہیں ہوتا کہ احمدی ہونے کے بعد مجھے کئی قسم کی قربانی کرنی پڑے گی۔تو وفات مسیح یا نبوت مسیح موعود یا الہام کے مسئلہ میں اس کا مخالفوں پر غلبہ پالینا کچھ فائدہ نہ دے گا۔اگر اس کے اعمال پر کوئی اثر نہیں ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے اسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر ایک مسلمان کے اعمال اچھے نہیں ہیں تو اسے محمد کے آنے سے کیا فائدہ۔اور میں تو کہوں گا اگر آنحضرت ﷺ آتے اور دنیا اللا میں کوئی تغیر کئے بغیر چلے جاتے تو آپ کی اس سے بڑھ کر کیا حقیقت ہوتی۔جو آندھی یا بارش کی ہوتی ہے۔بارش اور آندھی پھر بھی کچھ نہ کچھ اثر کرتی ہے۔اگر رسول کریم ﷺ کی بعثت کچھ تغیر نہ کرتی تو اس کی کوئی حقیقت نہ ہوتی۔اس تغیر اور اثر کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ سینکڑوں سال تک برائی اور بدی کی بیخ کنی ہو گئی۔اس طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے دنیا میں ایسی رونہ چلے۔جو برائیوں کو بہا کر لے جائے۔تو آپ کے آنے اور آپ کو ماننے سے کیا فائدہ۔اور یہ رو اس وقت تک نہیں چل سکتی۔جب تک آپ کو ماننے والا ہر فرد یہ نہیں سمجھتا کہ اخلاق فاضلہ پہلی چیز ہے۔جو روحانیت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔اگر کوئی شخص اخلاق فاضلہ حاصل نہیں کرتا تو اس کے احمدی ہونے کا نہ خود اسے کچھ فائدہ ہے اور نہ وہ جماعت کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔پس سب سے پہلے ہر ایک احمدی کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے کہ وہ اخلاق فاضلہ کی اہمیت سمجھے ورنہ اس کا احمدی ہونا بے فائدہ ہے۔پھر یہ ہے کہ نہ صرف اپنے اخلاق کی درستی کا خیال رکھے بلکہ دوسروں کی طرف بھی دیکھے کہ ان کے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں۔کیونکہ جب تک سب لوگوں کے اخلاق اعلیٰ نہ ہوں دوسروں پر خاص امتیاز حاصل نہیں ہو سکتا۔اور یہ کسی کے لئے خوشی کی بات نہیں ہو سکتی کیا کبھی ایسا شخص ہنستا دیکھا ہے۔جس کی آنکھ دکھتی ہو اور وہ یہ کہے -