خطبات محمود (جلد 9) — Page 111
111 سے لذت حاصل کر کے باقی تمام دنوں میں لذت کو محسوس کیا جائے۔جس طرح حلوائی نمونہ کے طور پر ایک مٹھائی دکھاتا ہے۔اس کے ایسا کرنے سے یہ مطلب نہیں ہو تا کہ صرف وہی ایک مٹھائی اس کے پاس اعلیٰ اور لذیذ ہے۔بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کی دکان کی تمام مٹھائیاں اسی طرح کی ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا ایسے دنوں کو خصوصیت دینے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس ایسے بابرکت عشرے اور مہینے ہیں۔جن میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔اور انسان دعاؤں میں خاص لذت محسوس کرتا ہے۔پس جو شخص ان برکات کو حاصل کرنا چاہتا ہے وہ نہ صرف انہی دنوں میں بلکہ تمام دنوں میں وہی برکات اور ویسی لذت حاصل کر سکتا ہے۔پس یہ نمونہ ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔آگے آپ لوگ کوشش کر کے ایسے عشرے ہمیشہ کے لئے خرید سکتے ہیں۔پس دعائیں کرو اور بہت کرو۔گو میں اپیلیں کرتا ہوں کہ چندے دو لیکن میں کہتا ہوں ہوں کہ اگر دوست دعا سے میری مدد کریں تو چندوں کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ خود ہمارے لئے ایسے سامان پیدا کر سکتا ہے جن کے ذریعے بغیر چندوں کے کام چل سکے۔مگر جس طرح اصل چیز میسر نہ آئے تو دوسری چھوٹی چھوٹی چیزیں لے کرگزارہ کر لیا جاتا ہے۔اسی طرح چندے ہیں۔ورنہ دعائیں دراصل سب سے بڑا ذریعہ ترقیات کا ہیں۔پس جس شخص نے یہ محسوس کر لیا کہ رمضان ہی نہیں بلکہ ہر مہینہ بابرکت ہے اور لیلتہ القدر ہی خاص بركات والی رات نہیں بلکہ ہر رات اپنے اندر برکتیں رکھتی ہے۔اور جس نے رمضان اور لیلتہ القدر سے نمونہ لے لیا۔ایسے شخص نے زیادہ فائدہ حاصل کیا بہ نسبت اس کے جس نے روزے رکھے۔اعتکاف بیٹھا اور آخری عشرہ کے دنوں میں لیلتہ القدر کو پانے کے لئے اٹھتا رہا۔اور اس نے رمضان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا لیکن اس حقیقت کو نہ سمجھا کہ ہر مہینہ اس کے لئے رمضان اور ہر رات لیلتہ القدر بن سکتی ہے۔رمضان اور لیلتہ القدر بطور نمونہ کے ہیں۔جن سے اس کو فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔حقیقی فائدہ رمضان سے اس نے اٹھایا۔جس نے گو بے تابی کے ساتھ رسم و رواج کے مطابق لیلتہ القدر کی جستجو نہ کی۔اور اتنے روزے نہ رکھے جتنے پہلے نے رکھے۔اور اتنی دعائیں نہ کی جتنی پہلے نے کیں۔گو بظاہر اس نے رمضان کا فائدہ پہلے سے کم اٹھایا۔لیکن اگر اس نے یہ خیال کر لیا کہ ہر عشرہ ہی بابرکت ہو سکتا ہے۔اور اس بات کا مصمم ارادہ کر لیا کہ کوئی عشرہ اور رات ایسی نہ جانے دوں گا جسے رمضان اور لیلتہ القدر کی طرح سمجھ کر اس