خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 112

112 سے فائدہ نہ اٹھاؤں تو اس نے پہلے کی نسبت بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔پس اگر یہ یقین اور یہ وثوق تمہارے اندر پیدا ہو جائے کہ ہر عشرہ آخری عشرہ اور ہر ماہ رمضان ہو سکتا ہے تو میں کہتا ہوں یقیناً ہر عشرہ رمضان کا آخری عشرہ اور ہر مہینہ رمضان ہو سکتا ہے۔اور تمہاری دعائیں ہمیشہ اسی طرح سنی جا سکتی ہیں۔جس طرح رمضان اور اس کے آخری عشرہ میں سنی جاتی ہیں۔تم یہ یقین اور وثوق اپنے اندر پیدا کرو۔اور دعائیں کرو۔اگر دعاؤں کے ساتھ مجھے دو دو گے تو اس کام کے ہونے میں جس کے لئے حضرت مسیح موعود آئے۔جس کے لئے رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے اور جس کے لئے تمام دوسرے انبیاء دنیا میں آئے۔کوئی شک نہیں رہ جاتا اور اس شیطان کو جو پورے زور کے ساتھ اسلام پر حملہ کر رہا ہے۔کچل دینے میں کوئی کمی نہیں رہ سکتی۔پس ان دنوں کے نمونہ سے فائدہ اٹھاؤ۔اور دعا کرو کہ ہم خدا تعالیٰ کی قوتوں کا صحیح اندازہ لگائیں۔اور وہ ہماری کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرے اور ہمارے اعمال کو نیک بنائے۔ہمارے دلوں کے اندر وہ وسعت پیدا کرے جس سے ہم اس کی غیر محدود طاقتوں کو سمجھیں۔ہمارے اخلاص اور ہمارے عرفان میں ترقی دے۔ہمارے دلائل کامل مشاہدات پر مبنی ہوں جس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ہمارے تعلقات ہمارے رب سے بھی اور ہمارے بھائیوں اور عزیز و اقارب سے بھی اچھے ہوں۔ہماری بد فنیاں نیک فنیوں سے اور ستیاں چستیوں سے بدل جائیں۔اور ہم لوگوں کے لئے بطور نمونہ ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح کو خوش کرنے کا موجب ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائے۔ہم گنہگار ہیں۔وہ اپنے ہاتھ سے ہمیں پاک کرے اور ہمارے گناہوں کو معاف کرے۔کیونکہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ملک میں آج کل ہیضہ کی عام طور پر شکایت ہے۔اور قادیان میں بھی اس کے کیس ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی بہو بھی اس مرض سے بیمار ہو گئی تھیں جنہیں اب کچھ آرام ہے۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ خاص طور پر دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو ان وبائی امراض سے محفوظ رکھے اور جو عزیز اس میں مبتلا ہوں ان کو شفا عطا فرمادے۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں نماز کے بعد دو شخصوں کا جنازہ پڑھوں گا۔ایک قاری نعیم الدین صاحب کا جو بنگال کے رہنے والے اور بہت مخلص تھے۔ان کے اخلاص کا اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ایک دفعہ میں نے تبلیغ کے لئے زندگی وقف کرنے کے تحریک کی تو انہوں نے کھڑے ہو کر بڑے جوش کے ساتھ تقریر کی اور کہا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن میرے دو بچے کام کے