خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 105

105 کامیابی یا مدد کی امید نہیں رکھ سکتا۔پھر دوسری بات جو دعا کی قبولیت کے لئے نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اوپر ایک موت قبول کرنے کے بعد اس کی کامل توجہ اس طرف ہو کہ خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں۔جب تک وہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کو کامل طور پر نہیں پھراتا اس کی دعا بھی قبول نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ شخص جو اپنے آپ کو مردہ خیال کرے۔لیکن اس کے دل میں کرب گریہ و بکار عاجزی و انکسار پیدا نہ ہو اس کی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس شخص کی دعا قبول ہو جس کا دل کسی اور طرف لگا ہوا ہو اور زبان کچھ اور کہہ رہی ہو۔تیسری بات جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اگر انسان پورے طور پر خدا تعالی کی طرف جھک بھی جائے۔اور اپنے آپ کو بے بس و بے کس بھی ظاہر کرے۔لیکن اس کے دل کے اندر یہ یقین نہ ہو کہ وہ خدا دعائیں قبول کرتا ہے تو ایسے شخص کی بھی دعا قبول نہیں ہوتی۔کیونکہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص لولے اور لنگڑے کو کہے کہ میرے سر پر یہ بوجھ رکھ دو۔کیا اس کا اس لولے اور لنگڑے سے مدد حاصل کرنا جس سے مدد کی قطعاً امید نہیں ہو سکتی ہنسی نہ ہو گی۔پس جس کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ خدا تعالیٰ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ میری دعا کو قبول کر سکتا ہے ایسے شخص کی دعا بھی قبول نہیں ہو سکتی۔پس یہ تین باتیں ہیں جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں۔یہ کہ انسان اپنے دل میں یہ سمجھے کہ میں سخت کمزور ہوں۔صرف خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو سب کمزوریوں سے پاک ہے اور پھر غرور اور کبر کا مادہ بالکل اپنے دل سے نکال دے۔جائے۔دوسرے کامل توجہ کے ساتھ تمام دوسری طرفوں سے اپنی توجہ کو ہٹا کر خدا کے حضور گر تیسرے اپنے دل کے اندر اس بات کا کامل یقین اور وثوق پیدا کرے کہ خدا تعالی دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اور وہ ضرور دعائیں قبول کرتا ہے۔جب ان تینوں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دعائیں کرو گے تو پھر وہ دعائیں وہ اثر کریں گی کہ اگر پہاڑوں کو کہو گے کہ ہٹ جاؤ تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔اور اگر دریاؤں کو کہو گے کہ اپنا راستہ بدل دو تو وہ اپنا راستہ بدل دیں گے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس طرح دعائیں کریں تو دنوں میں ان کو وہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔جو سالوں میں ہو گی۔اور گھنٹوں میں وہ کامیابی ہو سکتی ہے جو مہینوں میں ہو سکتی ہے۔