خطبات محمود (جلد 9) — Page 104
104 پورے وثوق کے ساتھ دعاؤں میں مشغول ہو جائے اور خدا کے حضور گڑ گڑائے تو میں نہیں کہ سکتا کہ ہماری ترقی کی رفتار وہی رہے جو آج ہے اور ہم اس طرح دشمنوں کے اندر گھرے رہیں جس طرح آج گھرے ہوئے ہیں۔یہ ہماری بعض معاملات میں ناکامیاں اور دشمنوں میں اس طرح گھرے رہنا صرف اس لئے ہے کہ ہمارا ایک حصہ ایسا ہے ہے جو دعا میں سستی کرتا ہے۔اور بہت ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتے اور ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ دعا کیا ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔دعا موت قبول کرنے کا نام ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے جو منگے سو مر رہے۔جو مرے سو منگن جائے۔یعنی کسی سے سوال کرنا یا مانگنا ایک موت ہے اور موت وارد کئے بغیر انسان مانگ نہیں سکتا۔جب تک وہ اپنے اوپر ایک قسم کی موت وارد نہیں کر لیتا وہ مانگ نہیں سکتا۔پس دعا کا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے اوپر ایک موت طاری کرتا ہے۔کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں وہ کب مدد کے لئے کسی کو آواز دیتا ہے۔کیا یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑے پہننے کے لئے محلہ والوں کو آواز میں دیتا پھرے کہ آؤ مجھے کپڑے پہناؤ۔یا تھائی دھونے کے لئے دوسروں سے کہتا پھرے کہ مجھے تھالی دھلواؤ۔یا قلم اٹھانے کے لئے دوسروں کا محتاج بنے۔انسان دوسروں سے اس وقت مدد کی درخواست کرتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ورنہ جس کو یہ خیال ہو کہ میں خود کر سکتا ہوں وہ دوسروں سے مدد نہیں مانگا کرتا۔وہی شخص دوسروں سے مدد مانگتا ہے جو یہ سمجھے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔اسی طرح خدا تعالٰی سے بھی وہی شخص مانگ سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کے سامنے مرا ہوا سمجھے اور اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا ظاہر کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان میرے رستے میں جب تک مر نہ جائے اس وقت تک دعا دعا نہ ہو گی۔کیونکہ پھر تو بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص قلم اٹھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہوا دوسروں کو مدد کے لئے آوازیں دے۔کیا اس کا ایسا کرنا ہی نہ ہو گا۔جب ایک شخص جانتا ہو کہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ قلم اٹھا سکے تو اس کی مدد نہیں کرے گا۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں خود فلاں کام کر سکتا ہوں وہ اگر اس کے لئے دعا کرے تو اس کی دعا در اصل دعا نہیں ہو گی۔دعا اسی کی دعا کہلانے کی مستحق ہو گی جو اپنے اوپر ایک موت طاری کرتا ہے۔اور اپنے آپ کو بالکل پیچ سمجھتا ہے۔جو انسان یہ حالت پیدا کرے۔وہی خدا کے حضور کامیاب اور اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہیں۔ورنہ جب تک انسان یہ تسلیم نہ کرے۔کہ وہ خود کچھ نہیں ہے اپنے نفس پر موت وارد کر کے یہ یقین نہ کرے کہ وہ بے بس اور بیکس ہے۔صرف اللہ ہی کی ذات ہے جو اس کو سہارا دے سکتی ہے۔تب تک خدا تعالیٰ سے کسی