خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 106

106 حصہ پس میں اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے حضور بہت بہت دعائیں کریں کہ وہ ہماری جماعت کو اعلیٰ ترقیات عطا فرمائے۔ہمارے اخلاص کی کمی اور ہماری جہالت کو دور کرے۔ہماری روحانی۔جسمانی اور علمی اور مالی کمزوریوں کو بدل کر اس کے مقابل میں اعلیٰ کمالات عطا فرمائے۔کیونکہ وہی تمام کمالات کا منبع ہے۔پھر ہمارے وہ دوست جو احمدیت کی وجہ سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔اور وہ جن کے ایمان ابھی اتنے مضبوط نہیں ان کے لئے بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان کے دل کے اندر ایمان اور عرفان پیدا کرے۔اور وہ بھی سلسلہ کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر لیں۔اگر ہمارے دوست جماعت کی ترقی کے لئے اس طرح دعائیں کریں اور اپنے لئے بھی کریں تو اس کے ایسے اچھے نتائج پیدا ہوں گے جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ ہمارے دشمنوں کے لئے بھی حیرت کا موجب ہوں گے۔یہ دن جیسا کہ قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے خاص قبولیت کے دن ہیں۔اور ان دنوں میں روزہ کی وجہ سے رات کو پچھلے وقت سب کو اٹھنا پڑتا ہے۔بچے بھی شوق کی وجہ سے اس وقت اٹھ بیٹھتے ہیں۔اور وہ عورتیں جو شرعی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتیں ان کو کھانا وغیرہ پکانے کے لئے اٹھنا پڑتا ہے۔اس لئے وہ بھی دعاؤں میں شریک ہو سکتی ہیں۔چونکہ تہجد کی نماز میں دوسری نمازوں کی نسبت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں اس لئے خاص طور پر تہجد میں دعائیں کرو۔مجھے خدا تعالٰی کے فضل سے اس رمضان میں پہلے سالوں سے زیادہ دعاؤں کی توفیق ملی ہے۔اور میں نے سب کے لئے بہت دعائیں کی ہیں۔پھر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اب تو رمضان گزر چکا ہے۔صرف تھوڑے دن باقی ہیں۔اب کیا ہو سکتا ہے۔قبولیت دعا کے لئے تو ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ بھی کافی ہوتا ہے۔کون جانتا ہے کہ اس کی کس وقت کی دعا قبول ہو جائے گی۔اس لئے اگر وہ ان تھوڑے دنوں میں بھی خاص توجہ سے دعائیں کریں گے تو اس کے بڑے بڑے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرے۔ہم ہمیشہ اس کی طرف نہایت اخلاص کے ساتھ جھکیں۔ہم اس کے فضلوں کے وارث اور اس کی رضا پر چلنے والے ہوں۔ہم اس کے ہو جائیں اور وہ ہمارا ہو جائے۔انھیں بھی تو اسلام کے ساتھ اور مریں بھی تو اسی یقین اور وثوق کے ساتھ کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے۔الفضل ۲۳ اپریل ۱۹۲۵ء)