خطبات محمود (جلد 8) — Page 424
424 چاہے کہ اس مکان میں اپنی زندگی کے دن باسہولت گذاروں تو کیا اس کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی۔ہرگز نہیں۔اگرچہ اس نے اپنی طرف سے کمال ہوشیاری کے ساتھ مکان بنایا ہو۔لیکن اس میں آرام سے رہنے کی اس کی غرض پوری نہ ہو گی کیونکہ اس نے ان حالات کو اپنی ناواقفیت کی وجہ سے مد نظر نہ رکھا ہو گا جن کا مد نظر رکھنا وہاں کے لئے ضروری ہے اور وہ سامان مہیا نہ کئے ہوں گے جو اس ملک میں آرام پہنچا سکتے ہیں اس کا مکان برف سے امن میں نہ ہو گا۔اور اس سے وہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ وہاں وہی مکان برف کے طوفان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔جن کی چھتیں نوکدار ہوتی ہیں۔ان پر برف پڑنے سے برف ادھر ادھر چھتوں پر سے گر جاتی ہے اور ان کو نقصان نہیں پہنچاتی۔لیکن چوڑی چھتوں والے مکانوں سے جس طرح کہ یہاں بنائے جاتے ہیں۔برف گر نہیں سکتی تو وہاں وہی مکان محفوظ رہ سکتے ہیں۔جن کی چھتیں نوکدار ہوتی ہیں۔پس اگر کوئی جس طرح یہاں مکان بنایا جاتا ہے وہاں بھی بنائے تو ضرور اس کا مکان برف سے تباہ ہو جائے گا جس کی وجہ بنانے والے کی ناواقفیت ہو گی۔اس نے اپنے ذہن میں یہ سمجھ لیا کہ جس طرح یہاں مکان بنایا جاتا ہے اور محفوظ رہتا ہے۔ایسا ہی اگر وہاں بنایا جائے۔تو وہاں بھی محفوظ رہے گا۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کا مکان برف کے طوفان سے تباہ ہو جائے گا۔اسی طرح دیگر معاملات میں انسان اپنے ذہن میں کچھ باتیں ایسی سمجھ لیتا ہے جن سے وہ خیال کرتا ہے کہ نتیجہ اچھا نکلے گا لیکن نتیجہ اس کے خیال کے ماتحت اچھا نہیں نکلتا پس جبکہ انسان کی ایسی حالت ہے کہ اس کے خیال کے ماتحت ہر وقت اچھے نتیجے نہیں نکلتے۔بلکہ بسا اوقات برے نکلتے ہیں تو پھر وہ کیا کرے۔اس کے لئے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے جو اھدنا الصراط المستقیم میں بتایا گیا ہے کہ انسان خدا کے حضور گرے اور عاجزی سے دعا کرے کہ اے خدا مجھ کو ہر امر میں خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی صحیح اور سیدھا راستہ دکھاتا کہ میں غلطیوں سے محفوظ رہوں چنانچہ خدا تعالیٰ نے کمال شفقت سے ہر قسم کی غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی۔جو عام دعا ہے۔نہ کہ صرف خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اسے صرف روحانی امور کے لئے مخصوص کرنا غلطی ہے اور یہ ایسی غلطی ہے۔جو کئی آیات کے متعلق مسلمانوں نے کھائی اور بہت نقصان اٹھایا ہے۔ایک حکم جو مخصوص تھا۔اسے عام کر دیا گیا۔اور جو عام تھا اسے مخصوص بنا لیا گیا۔وہ آیت جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم کی دعا عام ہے۔اور ہر امر میں کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے۔كلا نمد هؤلاء (بنی اسرائیل : ۲۱) یعنے انسان جس قسم کی زندگی چاہتا ہے ہم اس کو اس قسم کی