خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 425

425 زندگی دے دیتے ہیں۔اور جس قسم کی مدد ہم سے چاہتا ہے۔اسی قسم کی مدد پہنچاتے ہیں۔اگر کوئی شخص دنیا کی جاہ و حشمت ہم سے مانگتا ہے۔تو ہم اس کو دنیا کی جاہ و حشمت دے دیتے ہیں۔اور اگر کوئی ہم سے ہمارا قرب اور ہماری ملاقات چاہتا ہے۔تو ہم اسے اپنے قرب میں جگہ دیتے ہیں۔غرض کہ جس قسم کی دعا وہ ہم سے مانگتا ہے اور جس قسم کی مدد وہ ہم سے چاہتا ہے۔ہم اسے دیتے ہیں۔کامیابی کا یہی ایک نکتہ ہے کہ جو تکلیف ہو۔اس کے دور کرنے کے لئے خدا تعالٰی سے دعا کی جائے۔اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے۔تو انسان غلطیوں سے محفوظ رہ سکتا اور ہر بات میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔لیکن افسوس کہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں نے بھی اس نکتہ کو اچھی طرح سے نہیں سمجھا۔اور یہی وجہ ہے کہ آج اگر کسی کو کہا جاتا ہے کہ تم دعا کرو۔خدا تمہاری مشکلات حل کر دے گا تو وہ کہتا ہے یورپ والے کون سی دعا کرتے ہیں۔کہ ہم دعا کریں جس طرح وہ دعا نہیں کرتے اور ان کی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔اسی طرح ہماری بھی حل ہو جائیں گی کیا وہ نہیں جانتا کہ اپنے گھر کے آدمی اور باہر کے آدمی سے الگ الگ معاملہ کیا جاتا ہے۔دیکھو ایک طالب علم جو ہر روز سکول جاتا ہے اس کے جانے پر یہ نہیں ہو تا کہ استاد آگے بڑھ کر اسے ملنے کے لئے آئے اور ساتھ لے جا کر سکول کی ایک ایک چیز دکھائے اور نہ ہی اس کا دوسرے استادوں اور ہیڈ ماسٹر وغیرہ سے تعارف کرایا جاتا ہے لیکن اگر کوئی اجنبی معزز شخص سکول میں آئے تو اسے ہیڈ ماسٹر اپنے ساتھ لے جا کر سکول کے استادوں سے تعارف کراتا ہے سکول کی اشیاء دکھاتا ہے۔غرض کہ اس کی ہر طرح خاطر مدارات کرتا ہے۔ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔اس لئے کہ دونوں کی الگ الگ ہیں۔اور حیثیتوں کے الگ ہونے کی وجہ سے ان سے الگ الگ معاملہ کیا جاتا ہے۔اسی طرح کافروں اور مومنوں سے بھی الگ الگ معالمہ کیا جاتا ہے۔وہ کافر جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا منکر ہے۔قیامت کو جھٹلاتا ہے۔اسے مہلت دی جاتی ہے اور اسے شرارتوں میں یہاں تک ڈھیل دی جاتی ہے کہ اس کی شرارتوں کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور آخر وہ مستوجب سزا ہو کر سزا یا جاتا ہے۔لیکن اس کے خلاف وہ انسان جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔اور قیامت کا قائل ہے۔اسے دنیا میں بھی ترقی دی جاتی ہے اور آخرت میں بھی وہ جنت میں داخل کیا جاتا ہے۔غرض کہ مومن اور کافر کے حسب حال دونوں سے الگ الگ معاملہ کہا جاتا ہے۔کافر کو اس کی نافرمانیوں پر یک لخت نہیں پکڑ لیا جاتا اور نہ انعامات الہی سے جو عام قانون قدرت کے ماتحت انسانوں کے لئے خدا تعالٰی نے رکھے ہیں۔ان سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ حیثیتیں