خطبات محمود (جلد 8) — Page 401
401 الصراط المستقیم۔یہاں بھی بندہ امدنی نہیں کہتا بلکہ اهدنا کہتا ہے کہ ہم سب کو ہدایت دے۔نہ کہ صرف مجھے ہدایت دے۔اس میں مومن کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ سب کو اپنے ساتھ شامل کر اور سب کے فائدہ کا خیال رکھنا۔جب ایک مومن کی یہ شان ہے تو کیا یہ عجب بات نہیں ہے کہ اگر ہر احمدی کہلانے والے کو یہ کہا جائے کہ اپنے علاقہ میں تبلیغ کیا کرو۔تو وہ کہے کہ مجھے کیا ضرورت ہے۔میں خود ہدایت پا چکا ہوں۔اوروں کی کیا پروا ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے اور اگر کہتا نہیں۔بلکہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتا ہے۔یعنی دوسروں کو حق کی تبلیغ نہیں کرتا۔تو اس کی حالت پر بہت ہی افسوس ہے۔کیونکہ وہ خدا کے آگے جھوٹ بولتا ہے۔جبکہ امدنا پکارتا ہے۔کیا ایک ایسا شخص جس کا ہاتھ زخمی ہو۔وہ کہہ سکتا ہے کہ میں اچھا ہوں۔یا وہ شخص جس کا پاؤں اچھی طرح نہ اٹھ سکتا ہو کہہ سکتا ہے کہ میں توانا ہوں۔یا کیا وہ شخص اپنے آپ کو خوبصورت کہہ سکتا ہے جس کا ناک کٹا ہوا ہو یا جس کی آنکھ کان میں قصور ہو۔اگر نہیں تو کوئی انسان اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھ کر کس طرح مطمئن ہو سکتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک وجود کی طرح قرار دیا ہے۔جیسا کہ سورۃ فاتحہ سے میں نے بتایا ہے کہ اس میں انسان کو بحیثیت مجموعی خدا کے سامنے کھڑا کیا گیا ہے۔نہ کہ فرویت کے لحاظ سے اور یہ سکھایا ہے۔کہ تمہاری نگاہ کسی کام کے فائدے پر جماعت کے لحاظ سے پڑے نہ کہ فردیت کے لحاظ سے اور تمہیں تمام پر نگاہ ڈالتے ہوئے اپنے پر غور کرنا چاہیئے۔یہ نہیں کہ اپنے فوائد کو مد نظر رکھو اور اوروں کی خبر نہ لو۔پس وہ انسان جو اهدنا اور اخرجت للناس کی حقیقت کو جانتا ہے۔کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں اچھا ہوں۔مجھے کسی اور کی فکر کی کیا ضرورت ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ انسان کو بنی نوع کی ہمدردی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔اور ہر ایک مسلم کا فرض ہے کہ وہ اپنی عمر تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے خرچ کرے۔اگر کوئی شخص اپنی عمر کو ہدایت پہنچانے میں خرچ نہیں کرتا۔تو اس کی نماز مداہنت اور منافقت کا رنگ رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اھدنا الصراط المستقیم صحیح طور پر نہیں کہہ رہا ہو تا۔میں نے بارہا تبلیغ کی طرف جماعت کو توجہ دلائی ہے۔لیکن اکثر لوگ ابھی تک اس کام کو سرانجام دینے میں سست ہیں۔بعض لوگ دین کے اور کاموں میں تو حصہ لیتے ہیں۔اور اگر کوئی لیکچر یا وعظ ہو رہا ہو۔تو انتظام وغیرہ کرنے۔لوگوں کو بٹھانے۔انہیں خاموش کرانے میں لگے رہیں گے۔لیکن خود تبلیغ کرنا ضروری نہیں سمجھیں گے۔اگر تمام کے تمام احمدی تبلیغ کرنا اپنا فرض سمجھ لیں۔تو