خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 400

400 کے تعلق کا اظہار کیا گیا ہے اور تینوں جگہ جماعت کا ذکر ہے کسی فرد کا نہیں ہے۔۔چنانچہ پہلی جگہ ایاک نعبد ہے جب انسان خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔تو اس وقت خدا اور بندہ میں میں اور تو کا سوال ہوتا ہے۔لیکن وہ کہتا ایاک نعبد ہے کہ اے خدا "ہم" تیری عبادت کرتے ہیں۔یہاں نعبد فرمایا ہے۔اعبد نہیں فرمایا۔یعنی ہم کہا ہے میں نہیں کہا۔حالانکہ عبادت میں کرتا ہے ہم نہیں کرتے۔اور ہم کہنا اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جبکہ دو باتیں پائی جائیں۔اول یہ کہ سب انسان خدا کی عبادت کرتے ہوں لیکن یہ مشاہدہ کے رو سے بالکل غلط ہے۔۔کیونکہ دہریے بھی دنیا میں رہتے ہیں۔جو خدا کو گالیاں دیتے ہیں اور مشرکین بھی ہیں۔جو بتوں کے آگے اپنی ناکیں رگڑتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ ساری دنیا خدا کی عبادت ، کرتی ہے بالکل غلط ہے۔ہاں ایک دوسری صورت ہے "ہم" کہنا صحیح ہو سکتا ہے۔اور وہ یہ کہ قاعد ہے کہ کسی کی طرف کوئی فعل منسوب کر دیا جاتا ہے۔اس لئے کہ وہ آئندہ اس کو کرے گا یا اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آئندہ کسی زمانہ میں اس سے کرائے گا۔اس لحاظ سے ایاک نعبد کہا جا سکتا ہے کہ سب انسانوں کو ہم خدا کی عبادت کرنے والے بنا کے چھوڑیں گے۔اور زبان کی خصوصیت بھی بتلاتی ہے کہ اس فقرہ میں غیر لوگوں کو بھی اپنے اندر شامل کیا گیا ہے۔پس اس لحاظ سے ایاک تعبد کے معنے یہ نہ ہوں گے کہ ساری دنیا عبادت کرتی ہے۔کیونکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے بلکہ یہ معنے ہوں گے کہ میں سب کو تیری عبادت کراؤں گا گو فی الحال سب لوگ تیری عبادت نہیں کرتے۔لیکن میں ان سے تیری عبادت کراؤں گا اور اگر اب تیری طرف نہیں آتے تو پھر آجائیں گے۔پس یہی مطلب ٹھیک ہے اور اسی سے میں کی جگہ "ہم" کہنا درست ہے دوسری جگہ سورہ فاتحہ میں جہاں بندے اور خدا کے تعلق کو ظاہر کیا گیا ہے وہ مقام ایاک نستعین ہے۔یہاں بھی استعین نہیں بلکہ نستعین کیا ہے اور اس میں یہ اقرار ہے کہ ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔یہ اقرار بھی بظاہر صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ نہ تو تمام دنیا مسلمان ہی ہے کہ وہ صرف خدا سے مدد چاہے اور پھر جو مسلمان ہیں۔وہ بھی سب کے سب خدا سے مدد نہیں چاہتے پس یہ معنے کرنے کہ ہم سب تجھ سے مدد چاہتے ہیں غلط ہیں۔بلکہ اس کے یہ معنے صحیح ہیں۔اور یہی ہو سکتے ہیں، کہ میں سب کو تیری عبودیت کی طرف لاؤں گا اور پھر وہ عبد بن کر تجھ سے مدد چاہیں گے۔پھر تیسری جگہ سورۃ فاتحہ میں خدا اور بندے کے تعلق کو اس فقرہ میں جمع کیا گیا ہے کہ اھدنا۔۔۔۔۔۔