خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 392

392 کسی یاد کے وقت کو ضائع کرتے تھے۔اس لئے آپ کے لئے تو ہر وقت لیلتہ القدر تھی۔اور آپ کا زمانہ ہی لیلتہ القدر تھا۔پس جب آپ کا زمانہ ہی لیلتہ القدر تھا۔تو خدا تعالی کا آپ کو بتلانا اسی طرح تھا۔جس طرح ایک دوست دوسرے دوست کی کوئی ہدیہ دیتا ہے۔تاکہ اپنی خوشی کا اظہار کرے جس طرح عام طور پر تحفہ دینے سے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔یا یہ بتلانا اسی طرح تھا جس طرح دو دوست کسی لیکچر سے واپس آتے ہیں تو راستے میں ایک دوسرے سے کہتا ہے لیکچر بہت عمدہ تھا حالا نکہ دونوں نے سنا ہوتا ہے اور دونوں لیکچر سے واپس آ رہے ہوتے ہیں۔وہ دوست دوسرے کو اس لئے جتاتا ہے کہ وہ اس لیکچر پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہے نہ کہ اس لئے کہ دوسرے کو پتہ نہیں ہوتا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو لیلتہ القدر بتانے کی صرف ایک یہی غرض ہو سکتی ہے اور وہ خوشی کا اظہار ہے۔ورنہ آپ تو شب و روز عبادت کرتے تھے اور آپ کا زمانہ ہی لیلتہ القدر تھا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ میں جاکر لوگوں کو خبر دوں لیکن خدا کا منشانہ تھا کیونکہ خدا چاہتا تھا کہ لوگ رمضان کی راتوں میں کوشش کر کے تلاش کریں۔اس لئے آپ کو بھلا دیا گیا لیکن افسوس ہے کہ عام طور پر لوگوں نے اس نکتہ کو نہ سمجھا۔اور ان کی سہولت پسند طبائع چاہتی ہیں کہ انہیں کوئی خاص وقت معلوم ہو جائے۔جس میں دعائیں کر کے قبول کرا لیں اور محنت و کوشش سے بچ جائیں اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ لیلتہ القدر کا معین وقت معلوم ہو جائے۔اور میں سمجھتا ہوں۔اسی خواہش کی وجہ سے جب الفضل میں حضرت مسیح موعود کے متعلق وہ روایت شائع ہوئی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔تو ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے سمجھا کہ بس اب لیلتہ القدر کا پتہ مل گیا اور اس کے لئے وہ تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔مگر ان کی یہ تیاریاں ایسی ہی تھیں۔جیسے عام مسلمانوں میں یہ مشہور ہے کہ جو کوئی رمضان کے آخری جمعہ میں حاضر ہو کر نماز پڑھ لے اس نے گویا تمام سال کی نمازیں پڑھ لیں بلکہ اس دن نماز پڑھنے کا نام تو ان لوگوں نے قضاء عمری رکھا ہوا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے اسی قسم کے بیہودہ خیالات کی وجہ سے آج میرے سامنے بھی پہلے کی نسبت زیادہ ہجوم ہے۔اگرچہ یہ ہجوم لاہور امرتسر وغیرہ مقامات کے اس دن کے ہجوموں کی طرح نہیں وہاں تو عام دنوں کی نسبت کئی سو گنا زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔تاہم یہاں بھی پانچ فیصدی کے قریب زیادتی ضرور ہے اور خاص کر آج عورتوں میں غیر معمولی طور پر زیادتی ہے یہ زیادتی انہی بے ہودہ خیالات کی بناء پر ہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کیا اس طرح لوگ جمعتہ الوداع میں حاضر ہو کر خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اس سے مکرو فریب اور دعا کرنا