خطبات محمود (جلد 8) — Page 391
391 لیکن تم نے ان برکات کے حصول کے لئے کتنی قربانیاں کیں۔کتنے اختلافات کو دور کیا۔کتنے جھگڑوں کو مٹایا۔یا کتنی جگہ ایثار کیا۔اگر تم نے جھگڑوں اور اختلافوں کو نہیں مٹایا اور اپنے اندر تبدیلی نہیں کی۔تو اس کا کیا فائدہ اگر تم نے رسمی طور پر اس لیلتہ القدر کی خوشی منائی اور تم نے عارضی جوش ظاہر کیا۔اور حقیقی جوش نہ پیدا کیا۔ایسی صورت میں کون ضامن ہے۔کہ تم سے لیلتہ القدر کے برکات نہ چھین لئے جائیں گے۔جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ان دونوں صحابیوں کی لڑائی اور آپ کے اختلاف کرنے کی وجہ سے اس کے برکات کو اٹھا لیا گیا۔تو میں پوچھتا ہوں۔کیا تم نے نہ اٹھائے جانے کے متعلق خدا سے عہد لے لیا۔یا لیلتہ القدر کوئی رسی ہے کہ تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا ہے۔اور وہ تم سے چھٹ نہیں سکتی۔اور تم کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہم کو لیلتہ القدر کے برکات ضرور حاصل ہو جائیں گے خواہ ہم میں کس قدر اختلاف موجود ہوں۔مگر ایسا نہیں۔تو تمہارا فرض ہے کہ تم ان شرائط کی پابندی کرو جو خدا نے اس کے برکات کے حاصل کرنے کے لئے ضروری قرار دی ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ اختلاف اور جھگڑوں کو چھوڑ دو اور تبدیلی پیدا کرو۔ور نہ یاد رکھو۔جب تک تبدیلی نہ کرو گے۔اس کی برکات کو حاصل نہ کر سکو گے۔خواہ تم لیلتہ القدر کی ساری رات ہی کیوں نہ جاگتے رہو اور دعائیں کرتے رہو۔وہ تمہارے ہاتھ سے اسی طرح نکل جائیں گی۔جس طرح ایک مچھلی تڑپ کر ماہی گیر کے ہاتھ سے اور ایک گولی سنسناتی ہوئی زخمی کے بدن سے نکل جاتی ہے۔پھر دوسرا نکتہ لیلتہ القدر میں یہ بتایا گیا ہے کہ آرام سے بیٹھنے کے ساتھ کامیابی نہیں ہو سکتی۔تم ست بیٹھے رہنے سے لیلتہ القدر کی برکات کو حاصل نہیں کر سکتے۔جب تم تکلیف کو برداشت کرو گے۔اسی وقت اس قابل ہو گے کہ لیلتہ القدر کی برکات سے تم کو حصہ دیا جائے چونکہ اس کی برکات معمولی برکات نہیں ہیں۔اس لئے خدا نے چاہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ اس سے اطلاع دے۔آگے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ میری امت اس سے محروم نہ رہے اور آپ نے ان کو اطلاع دینی چاہی۔لیکن خدا کا چونکہ یہ منشاء نہ تھا کہ آپ اطلاع دیں۔اس لئے ایسے اسباب پیش آگئے۔کہ آپ بھول گئے۔اور وقت یاد نہ رہا۔خدا تعالیٰ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتہ بتانا اس لئے نہیں تھا کہ آپ کو وہ وقت کبھی میسر نہ آیا تھا۔یا اس لئے کہ آپ کو آسانی ہو جائے یا اس لئے کہ آپ اس کی حقیقت اور برکتوں کے نزول سے واقف ہو جائیں۔کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے کسی وقت غافل نہ ہوتے تھے۔اور نہ ہی