خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 393

393 چاہتے ہیں۔اور اس پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم بڑے نمازی اور تہجد گزار ہیں۔یہ لوگ سال میں ایک دفعہ نماز پڑھ کر چاہتے ہیں کہ خدا پر احسان کریں اور اس کو دھوکا دیں۔بات یہ ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسی نماز مل جائے۔جس کو مرنے سے پہلے ایک دفعہ ہی پڑھیں اسی لئے اسے قضاء عمری کہتے ہیں۔اور کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتے۔اسی طرح یہ چاہتے ہیں کہ سوتے رہیں۔اور لیلتہ القدر کی برکات سے حصہ مل جائے۔لیکن میں کہتا ہوں۔لیلتہ القدر کی برکتوں کو بغیر کوشش اور سعی کے کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔اور نہ کوئی جمعتہ الوداع اور قضاء عمری کسی کے گناہوں کا کفارہ ہو سکتی ہے اور نہ ہی جمعتہ الوداع اکیلا ان کو گناہوں سے نجات دے سکتا ہے بلکہ میں تو یقین اور وثوق سے کہتا ہوں کہ قضاء عمری اور جمعتہ الوداع ان کی باقی نمازوں کو بھی لے ڈوبے گا اور وہ بالکل کو رے کے کو رے رہ جائیں گے ان کی حالت اس شخص کی سی ہو گی۔جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ صبح کے وقت دریا پر نہانے کے لئے گیا۔سردی کا موسم تھا۔راستہ میں اکڑتا چلا جاتا تھا۔جب دریا کے قریب پہنچا۔تو دریا کو دیکھ کر نہانے سے سردی کی وجہ سے رک گیا اور ایک کنکر اٹھا کر مارا اور یہ کہہ کر واپس آگیا۔تو را اشنان مورا اشنان یعنی تیرا نہانا اور میرا نہانا ایک ہی ہے۔راستہ میں اسے ایک اور شخص ملا۔وہ بھی نہانے جا رہا تھا۔اس نے پوچھا۔کس طرح نہائے۔جب اس نے بتایا۔تو اس نے وہیں راستہ سے کنکر اٹھایا۔اور وہی بات کہہ کر پھینک دیا اور چلا آیا۔پس جمعتہ الوداع اور لیلتہ القدر کے متعلق عام لوگوں کی یہی حالت ہے۔کیونکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ستیوں اور آراموں میں بھی پڑے رہیں اور خدا کے انعامات کے بھی وارث بن جائیں۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ا ان کو اس وقت لیلتہ القدر کی برکات حاصل ہوں گی جب راتوں کو جاگیں گے اور اس کی انتظار میں بیٹھیں گے۔یہ نہیں کہ انہیں خاص وقت بتا دیا جائے۔اور وہ آسانی سے اس وقت اٹھ کر لیلتہ القدر کی برکات حاصل کر لیں۔جو لوگ ایسی باتوں میں پڑ جاتے ہیں۔اور محنت و کوشش پر آرام طلبی کو مقدم کر کے چاہتے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے نعمت حاصل کر لیں۔وہ کبھی ترقی نہیں کرتے۔ترقی وہی قومیں کرتی ہیں۔جو کام پر کام کرتی ہیں۔اور فراغت یا آرام طلبی کو پاس نہیں آنے دیتیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے لوگوں کو دیکھو۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ رمضان میں خدا تعالیٰ کی عبادت میں اس قدر لطف آیا ہے کہ دوسرے مہینوں میں بھی اسی طرح عبادت کرنے کا طریق بتائیے۔تاکہ ہم فارغ نہ رہیں۔اور عبادت میں لگے رہیں۔یہ تھی صحابہ کی