خطبات محمود (جلد 8) — Page 270
270 کرنا چاہئیے اور اس غلط فہمی کو دور کر دینا چاہیے وہ شیخ عبد الرحمان صاحب مصری تھے۔اور سب سے پہلے ایک مولوی ہی نے ان کی طرف سے مجھے یہ بات کہی۔تو جس شخص نے اس خطبہ کے متعلق مجھے اطلاع کرائی اس کے متعلق یہ بدظنی کی گئی کہ اس کی صلاح اور مشورہ سے یہ خطبہ پڑھا گیا تھا۔اگر وہ بدظنی نہ کرتا تو ایسے خطرناک امر میں مبتلا نہ ہوتا کہ ان لوگوں کو دشمن قرار دیتا جن کی طرف سے حسن سلوک کیا گیا تھا۔پھر یہ بات اس نے بیان کی کہ مدرسہ احمدیہ کے لڑکے انگریزی سکول کے اساتذہ کو سلام نہیں کہتے۔اس کے متعلق میں کچھ رائے نہیں دے سکتا۔کیونکہ نہ میں ان مدرسوں کا طالب علم اور نہ ہائی سکول کا استاد ہوں۔اور میرے سامنے وہ لڑکے ایسا کر بھی نہیں سکتے اور نہ میں ان پر بدظنی کرتا ہوں کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ نہایت گندی اور خلاف اسلام بات ہے۔مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے کی تو غرض یہ ہے کہ وہ خدمت اسلام کے لئے تیار ہوں۔اور اسلام کا یہ حکم ہے کہ خواہ کوئی ہو۔اسے سلام کہا جائے۔بعض صحابہ مثلاً عبداللہ بن عمر و غیرہ اسی غرض سے بعض اوقات بازار یا کوچہ میں جاتے کہ لوگوں کو سلام کہیں۔مدرسہ احمدیہ خدمت اسلام کے لئے ہے نہ کہ اس کے خلاف چلنے کے لئے۔پس میں ان پر بد ظنی نہیں کرتا۔لیکن پھر بھی کہتا ہوں اگر ان میں سے کوئی اس مرض میں مبتلا ہو تو اس کو توبہ کرنی چاہیے اور اپنی اصلاح کرنی چاہئیے۔اس سے زیادہ میں اس بات کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔باقی رہا یہ کہ میاں بشیر احمد صاحب نے ماسٹر عبد المغنی صاحب ماسٹر رحیم بخش صاحب خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کو مولوی کہا ہے اور لوگوں کو بھی ترغیب دی ہے کہ وہ ان کو مولوی کہا کریں تاکہ مولویوں کی شہرت ہو اور انگریزی خوانوں کے اچھے کام ان کی طرف منسوب ہوں۔مجھے تحقیقات سے اب تک معلوم نہیں ہوا کہ میاں بشیر احمد صاحب نے ایسا کہا ہے اور نہ کوئی اس بات کا گواہ ملا ہے۔اور ہمیں تو اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ ہم میں سے کون ہے جو مولوی کہلانا چاہتا ہے اور مولویت کے ساتھ انس رکھتا ہے۔کیونکہ مولوی لفظ کا قدرتا" ہماری جماعت کے لوگوں میں ادب و احترام نہیں رہا۔اور نہ اس سے انس ہے۔کیونکہ نہ تو ابتدائی زمانہ اسلام میں کوئی مولوی کہلایا اور نہ درمیانی زمانہ کے بزرگوں نے اپنے آپ کو مولوی کہلایا۔وہ امام پکارے جاتے تھے۔اور اب ہمارے سامنے جو مولوی آئے وہ تو وہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی شدید مخالفت کی اور آپ پر کفر و فسق کے فتوے لگائے۔باقی جو بزرگ اسلام میں گزرے ہیں وہ امام کے لفظ سے پکارے گئے ہیں جیسے شیخ عبد القادر ، فقہا اور دوسرے عالموں کو امام یا علامہ کہا جاتا تھا۔آج کل جو مولوی ہیں وہ ہمارے اشد ترین دشمن ہیں۔اس لئے میری تو عقل میں ہی یہ نہیں