خطبات محمود (جلد 8) — Page 271
271 آتا کہ ہم میں سے کسی کو مولویت سے انس ہو۔یا مولوی کہلانا چاہتا ہو۔پھر یہ کہ ان لوگوں کو مولوی کہہ کر جماعت کو یہ دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔کہ مولوی ہی ہیں جو سب کام کر رہے ہیں یہ بھی غلط ہے۔مجھے تو آج تک کبھی باہر سے کوئی چٹھی نہیں آئی کہ فلاں جگہ مولوی شاء اللہ سے مباحثہ ہے مولوی عبد المغنی کو بھیج دو یا مولوی ذوالفقار علی صاحب یا مولوی رحیم بخش صاحب کو بھیج دو۔پس یہ ممکن ہی نہیں کہ اگر ان لوگوں کو مولوی کہا جائے تو جماعت کو یہ خیال ہو کہ یہ لوگ مولوی ہیں جو کام کر رہے ہیں۔تمام جماعت ان کو انگریزی خواں سمجھتی ہے۔ان کے متعلق یونسی زبانوں پر مولوی کا لفظ جاری ہو گیا۔جس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ واقع میں مولوی سمجھے جاتے ہیں۔مثلاً مولوی رحیم بخش صاحب ہیں۔اگر ان کو کبھی مولوی کہا جاتا ہے تو اس لحاظ سے کہ انہوں نے عربی میں ایم۔اے پاس کیا ہے اور کبھی ماسٹر بھی کہا جاتا ہے۔کیونکہ وہ انگریزی خواں بھی ہیں۔اسی طرح ماسٹر عبد المغنی صاحب کے متعلق بھی جماعت کو دھوکہ نہیں لگ سکتا کیونکہ جماعت کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ انگریزی خواں ہیں۔باقی رہا یہ کہ میں مولویوں کو ہی مشورہ میں بلاتا ہوں یہ بھی بالکل خلاف واقعہ ہے۔مثلاً پیچھے مکانوں کے متعلق جن لوگوں کو مشورہ میں بلایا جاتا تھا۔وہ صرف مولوی ہی نہ تھے بلکہ انگریزی خواں بھی تھے اور انگریزی دانوں کی تعداد زیادہ تھی۔انگریزی خوانوں میں سے میاں بشیر احمد صاحب ، ماسٹر رحیم بخش صاحب ، ماسٹر عبد المغنی صاحب مولوی شیر علی صاحب ذوالفقار علی خان صاحب تھے۔اور مولویوں میں سے حافظ روشن علی صاحب شیخ عبدالرحمان صاحب مصری، مولوی سرور شاه صاحب، مولوی اسماعیل صاحب تھے۔باقی شیخ محمد یوسف صاحب قاضی اکمل صاحب میر قاسم علی صاحب وہ لوگ ہیں جو نہ انگریزی خواں کہلا سکتے ہیں نہ عربی خواں، قاضی اکمل صاحب نے اگرچہ درسی کتب عربی کی پڑھی ہیں لیکن انہوں نے اپنی آئندہ زندگی کو ایسے رنگ میں نہیں چلایا کہ وہ مولوی کہلاتے۔پھر ولی اللہ شاہ صاحب بھی تھے۔وہ بھی آدھے انگریزی خواں اور آدھے عربی خواں ہیں۔انہوں نے عربی پڑھی ہے مگر وہ بھی انگریزی کی طرز پر۔پس اگر مشورہ میں تعداد مد نظر رکھی جائے تو مولویوں کی کم ہے۔ہاں چوہدری نصر اللہ خان صاحب بھی تھے وہ بھی نہ انگریزی خواں نہ عربی خواں ہیں۔وہ وکیل ہیں۔باقی صیغوں کے ناظر بھی انگریزی خوان ہیں مولوی نہیں۔پھر یہ کہ میں عربی خوانوں سے کام لیتا ہوں انگریزی خوانوں سے نہیں لیتا یہ بھی غلط ہے۔میں جب کسی کو کسی کام پر مقرر کرتا ہوں تو میرے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ یہ اس کام کا اہل ہے اور اس کام کو کر سکتا ہے لیکن میرے ذہن میں یہ کبھی نہیں آیا کہ یہ انگریزی خواں ہے یا عربی خواں۔میرے ذہن میں جو سوال اٹھتا ہے وہ یہی ہوتا