خطبات محمود (جلد 8) — Page 177
177 دھو کے دیگر نکل جاتے ہیں جیسا کہ امرتسر میں ہی ہوا۔ہندوؤں نے مسلمانوں کو کہدیا کہ چلو آپس میں لڑائی ہو گئی تو کیا ہوا۔گورنمنٹ کو دخل دینے کا موقع نہیں دینا چاہیئے اور اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمان ہندو ملزموں کو شناخت نہ کریں اور ہندو مسلمان ملزموں کو نہ پہچانیں۔اس پر مسلمانوں نے تو کہدیا کہ ہم ہندو ملزموں کو نہیں پہچانتے اس لئے وہ رہا ہو گئے لیکن ہندوؤں نے سب کے نام لکھوا دئے اور وہ پکڑے گئے۔تو مسلمان اس وقت ہر طرف سے مار پر مار کھا رہے ہیں مگر ہوش نہیں کرتے۔ایک گڑھے کے بعد دوسرے گڑھے میں گر رہے ہیں مگر ابھی تک انہیں سمجھ نہیں آتی۔روزانہ پیش آنے والے واقعات ہی کوئی معمولی نہیں۔مگر سب سے زیادہ اثر مجھ پر پنڈت موتی لال صاحب نہرو کی ایک تقریر نے کیا ہے اور میری آنکھوں کے سامنے غدر کا نمونہ پھر گیا ہے۔پنڈت صاحب ایک بہت بڑے لیڈر ہیں انہوں نے اپنی ایک تقریر میں جو ہندو مسلم اتحاد کے متعلق تھی کہا ہے کہ اگر چہ میں خود ایک سچا ہندو ہوں تاہم اسلامی تہذیب و شائستگی اور مذہب اسلام کی روایات جمہوریت کا بڑا مداح ہوں۔یہ کہکر انہوں نے مسلمانوں سے اپنی ہمدردی اور خیر خواہی جتائی ہے۔مگر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اصل میں تو میں ہندو ہی ہوں۔اور ہندوؤں کا ہی خیر خواہ ہوں۔اور انہی کی تائید کے جذبات میرے دل میں اٹھتے ہیں مگر پہلے مسلمانوں کو ساتھ ملا کر ہندوستان کی حکومت ملنے دو پھر ان کو نکالیں گے۔ابھی کیوں ان کو الگ کرتے ہو۔اور دوسری تقریر میں غدر جیسی غداری والی بات کہی ہے۔اور وہ یہ کہ افسوس مسلمان بھائیوں نے اپنے علماء کو اپنے سیاسیات میں بہت آزادی دے دی۔جس کا نتیجہ برا نکلا ہے۔میں ان سے التجا کروں گا کہ انہیں آئندہ اس بات پر اصرار کرنا چاہیے کہ علماء سیاسیات میں ہاتھ ڈالنے سے احتراز کریں۔گو پنڈت صاحب کے نزدیک سارا فساد مولویوں کا پیدا کردہ ہے اس لئے ان کو سیا سیاست میں نہیں آنے دینا چاہیے لیکن ادھر مولویوں کا یہ حال ہے کہ مولوی ابوالکلام آزاد مولوی آزاد سبحانی، مولوی ثناء اللہ مولوی ابراہیم وغیرہ کی زبانیں گھس گئی ہیں لوگوں کی خوشامد میں کرتے کہ ہندو خواہ کچھ کریں۔تم اتفاق و اتحاد سے رہو اور اگر عملاً نہیں تو عقلاً جبہ سائی کرتے کرتے ان کی پیشانیوں پر گئے پڑ گئے ہیں۔مگر نہرو صاحب سے انہیں یہ انعام ملا ہے کہ سارا فساد مولویوں کا پیدا کیا ہوا ہے ان کو سیاسیات میں ہی نہ آنے دو۔حالانکہ تھوڑا ہی عرصہ پہلے انہیں مولویوں کو منتیں کر کر کے لاتے اور گورنمنٹ کے خلاف فتویٰ لیتے تھے۔مگر اب کہتے ہیں ان کو سیاست میں آنے ہی نہ دو بلکہ باہر نکال دو۔میرے نزدیک مولوی صاحبان اسی سلوک کے مستحق ہیں۔کیونکہ جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دروازہ چھوڑ کر گاندھی کے دروازہ پر جاتا ہے اسے جتنی بھی سزا ملے اس کا وہ مستحق ہے۔مگر یہ جھوٹ ہے کہ مولویوں نے تفرقہ ڈلوایا ہے یا ڈلواتے ہیں وہ تو آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ہندو جو کچھ کریں ہم ان