خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 176

176 خدا تعالیٰ نے ہماری آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا ہے اور تمہاری اصل شکل ہمیں نظر آنے لگی ہے۔تم کہو یہ کب ہو گا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہ ہم کو بتایا گیا ہے اور نہ ہمارے ہادی کو۔جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتایا گیا تھا ہاں یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح پہلے نبیوں کے وقت میں ہوا اسی طرح اب بھی ہو گا۔یہ ہم نہیں جانتے کہ کب ہو گا۔ہاں یہ جانتے ہیں کہ ضرور ہو گا۔پس ہم کسی ذاتی فائدہ کے لئے کوئی مشورہ نہیں دیتے رہے۔بلکہ جو بھی نصیحتیں کیں محض اخلاص اور محبت سے کیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے ان کو مانا نہیں اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔اب کیا ہو رہا ہے اس کا پتہ ان مظالم سے لگ سکتا ہے جو مالابار میں مسلمانوں پر ہندوؤں کے ہاتھوں ہوئے اور جن کی انتہا نہیں رہی۔پہلے تو آپ ان کو کہا کہ گورنمنٹ کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ۔اور سوراجیہ حاصل کرلو۔مگر پھر غدر کے ایام کی طرح غداری کی اور گورنمنٹ سے مل گئے۔اور شور ڈال دیا کہ ہم مارے گئے۔ہم پر مسلمانوں نے یہ ظلم کئے یہ ستم توڑے۔بے شک مسلمانوں میں سے بعض نے ہندوؤں پر ظلم کئے۔مگر وہ ان مظالم کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو ہندوؤں نے مسلمانوں پر کئے۔لیکن افسوس کہ مسلمان اس پر بالکل خاموش رہے۔اور غریب موپلوں کی کچھ بھی مدد نہ کی۔پھر ملتان امرتسر الہ آباد کی طرف جو کچھ ہوا اس میں بھی مسلمانوں کو سخت سے سخت نقصان پہنچایا گیا۔پھر ملکانوں کے علاقہ میں مسلمانوں کو جبر سے آریہ مرتد کر رہے ہیں اور ہندو ریاستیں اس کے لئے جبر کر رہی ہیں۔آریہ ان کے علاقوں میں مسلمانوں کو مرتد بناتے ہیں تو کہتی ہیں کوئی حرج نہیں خوشی سے بنائیں۔لیکن جب کوئی مسلمان جائے اور ارتداد کو روکنا چاہیے تو کہہ دیتی ہیں بدامنی پیدا ہوتی ہے اور مسلمان مبلغوں کو نکال دیتی ہیں۔یہ نتیجہ ہے ان غلط کاریوں کا جو مسلمانوں نے کیں کہ اپنی باگیں ہندوؤں کے ہاتھوں میں دے دیں۔اب اگر انہیں ہندو سرمہ کی طرح پیس دیں اور غبار کی طرح ہوا میں اڑا دیں تو کوئی تعجب نہیں۔مجھے اس دن کی امید تھی جس دن میں سنتا کہ غدر کے ایام کی طرح ہندو آگے بڑھتے اور گورنمنٹ سے کہتے ہیں کہ سب کچھ مسلمانوں نے کیا ہے ہم نے کچھ نہیں کیا۔چنانچہ اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔خود ہندو فساد کرتے مسلمانوں سے لڑتے اور ان کو مارتے ہیں۔اور پھر جاکر حکام کے پاس شور ڈالتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیں مار دیا۔انگریز ایک تو تیسری قوم ہے اور پھر اس کا اس اصل پر عمل ہے کہ جو اونچی آواز سے چلائے گا اسی کی سنی جائے گی۔اس لئے ہندو اپنی سنا لیتے ہیں اور مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے پاس کیوں جائیں جس سے ہم نے ترک موالات کیا ہوا ہے۔مگر ہندو باوجود نان کو اپریٹر کہلانے کے جاتے ہیں۔اور جاکر مسلمانوں کی شکائتیں کرتے ہیں۔اس وجہ سے مسلمان پکڑے جاتے ہیں۔اور اگر حکام اپنی تفتیش کے ماتحت ہندوؤں کو پکڑتے بھی ہیں تو وہ عجیب عجیب