خطبات محمود (جلد 8) — Page 178
178 کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہیں۔مگر اب مسلمان ان کی نہیں مانتے۔کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ہندو دوستی کے پردہ میں ان کی جڑ ہیں کاٹنا چاہتے ہیں۔امرتسر میں مولوی ثناء اللہ نے اور سیالکوٹ میں مولوی ابراہیم نے ہندوؤں سے متحد ہو کر رہنے کے وعظ کئے۔ادھر ابو الکلام صاحب اور سبحانی صاحب سی آر داس کا دامن نہیں چھوڑتے اور ان کے پیچھے چل رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے سارا الزام ان پر لگایا جاتا ہے کہ یہی لوگ فتنہ پھیلاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کو سیاست سے علیحدہ کر دینا چاہئیے۔جب گورنمنٹ کے خلاف فتوے لینے کی ضرورت تھی تو اس وقت مسٹر گاندھی بھی مولوی عبد الباری صاحب کو اپنے پاس بٹھاتے تھے۔اور سارے ہندو لیڈر کہتے تھے کہ اگر سوراجیہ ملے گا تو علماء کے ذریعہ ہی ملے گا۔لیکن اب جبکہ اس میں ناکامی ہوئی ہے اور کسی اور رستہ کی تلاش ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان مولویوں کی وجہ سے ہی ناکامی ہوئی ہے اور اس طرح سارا الزام مولویوں پر لگا دیا گیا ہے۔میں اس امر کو پسند کرتا ہوں کہ مولوی سیاست میں دخل نہ دیں تاکہ کم از کم ان کے فتووں سے عام لوگ تو گمراہ نہ ہوں مگر یہ غلط ہے کہ ان کی وجہ سے سوراجیہ کا کام خراب ہوا ہے۔وہ تو لیڈروں کے غلام بنے پھرتے ہیں۔اور کیوں نہ پھریں۔وہ جو پہلے ان لیڈروں کی مجالس میں بار تک نہ پاتے تھے اور عضو معطل کی طرح پڑے رہتے تھے۔وہ جب سٹیج پر بلائے گئے ان کی آؤ بھگت کی گئی تو وہ اسی پر خوش ہو گئے ورنہ وہ جو صرف لیٹ رہنا اپنا کام سمجھتے تھے انہوں نے کیا کیا۔اور کر کیا سکتے تھے۔جو کچھ کیا سیاسی لیڈروں نے کیا۔مگر جب نقصان ہوا تو سارا الزام مولویوں کے ذمہ لگا دیا۔مگر تعجب ہے کہ پنڈت صاحب نے باوجود ادعائے بے تعصبی کے اتنا نہ سوچا کہ اگر مولویوں نے سیاست میں دخل دیا ہے تو پنڈتوں نے بھی تو دیا ہے۔اگر شنکراچاریہ کا سیاست میں دخل دینا سیاسی معاملات کو خراب نہیں کرتا تو مولویوں کا دخل دینا کیوں خراب کرتا ہے۔مولویوں پر یہ الزام ان کے لئے اس امر کی سزا ہے کہ انہوں نے نفسانی خواہشات کے لئے قرآن کریم کو بدنام کیا مگر جنس اصل کے ماتحت ان پر الزام لگایا گیا ہے وہ جھوٹ ہے اور ظلم ہے اور اس سے بھی زیادہ ظلم یہ ہے کہ صرف مولویوں کو ملزم قرار دیا گیا اور شنکراچاریہ جیسے مشہور سیاسی پنڈت کے متعلق ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔اس لئے کہ سارے کا سارا الزام مسلمانوں پر قائم رہے۔کیا ہندو مسلم اتحاد کا یہی نتیجہ ہونا چاہیئے مسلمان خود سوچ سکتے ہیں۔صلح کا ہم سے بڑھ کر کوئی خواہش مند نہیں۔ہمارے ہی امام نے سب سے اول صلح کا پیغام دیا مگر ہم کہتے ہیں اپنے اپنے حقوق معین کرکے ہی صلح ہو سکتی ہے۔اگر ہمارے بتائے ہوئے اصل کے ماتحت ہندو مسلمان چلتے تو کبھی جھگڑا نہ ہوتا۔اور حقیقی صلح ہوتی لیکن چونکہ اس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔اس لئے یہ حالت ہوئی جو نظر آرہی ہے۔ہاں اس اصل کے ماتحت جو صلح ہوتی۔وہ ہندوؤں سے ہی نہ ہوتی بلکہ انگریزوں سکھوں اور