خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 161

161 جب انسان کے دل میں ہدایت پانے کی کچی خواہش پیدا ہو جائے تو یہ دعا بہت جلدی قبول ہو جاتی ہے۔دیکھو ایک شخص مینار کے پاس کھڑا ہو۔اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس جانا چاہیے تو وہ اتنا جلدی اس کے پاس نہیں پہنچے گا جتنا جلدی اگر وہ بھی اس کی طرف چل پڑے۔تو پہنچ سکے گا۔قید سے رہائی پا جانا یا بچہ پیدا ہونا یا مال مل جانا وغیرہ انسان کا اصلی مقصد نہیں۔اس لئے ان باتوں کے حصول کے لئے اسے سارا سفر خود طے کرنا ہوتا ہے۔لیکن جب صراط مستقیم کے لئے دعا مانگتا ہے تو ادھر سے خدا اس کی طرف بڑھتا ہے اور ادھر سے یہ خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے اور درمیان میں مل جاتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کی اور اس کی خواہش ایک ہو جاتی ہے اس لئے جلدی پوری ہو جاتی ہے۔پس اگر اس بات کی کچی خواہش ہو تو اس کا پورا ہونا کوئی بھی مشکل امر نہیں۔اور اگر یہ دعا قبول نہیں ہوتی۔تو یاد رکھو کہ اس کے لئے سچی تڑپ نہیں ہوتی۔بلکہ دکھاوے کی دعا کی جاتی ہے۔اور ایسی دعا قابل قبول نہیں ہوتی۔بلکہ اس قابل ہوتی ہے کہ دعا کرنے والے کے منہ پر ماری جائے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ بہت ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہیں ہدایت پانے کی سچی اپ ہے مگر وہ غور کریں۔کیا ایسی ہی تڑپ ہوتی ہے جیسی دنیاوی باتوں کے لئے ہوتی ہے۔اگر ویسی تڑپ نہیں اگر اس طرح اس کے لئے کھانا پینا حرام نہیں ہو جاتا چین و آرام کا فور نہیں ہو جاتا۔جیسا دنیاوی امور کے لئے ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ تمہارے اندر سچی تڑپ نہیں ہے اور جب یہ حالت ہو تو قطعا " امید نہ رکھو کہ تمہاری دعا قبول ہوگی لیکن چونکہ انسان کی پیدائش کا یہی مقصد ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس کے لئے سچی تڑپ اور حقیقی خواہش پیدا کرو تا اس مقصد کو حاصل کر سکو کیونکہ وہ جو اس کے بغیر مر گیا وہ تباہ ہو گیا۔اس مقصد کے لئے دو دفعہ کسی کو پیدا نہیں کیا جائے گا۔اس لئے اس موقعہ کو رائیگاں نہ جانے دو۔اور مقصد پیدائش کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔خدا تعالٰی ہماری جماعت کو اپنے فضل سے کچی راہ دکھائے اور دنیاوی آلائشوں سے پاک کر کے اپنا محبوب بنالے۔الفضل ۲۱ اگست ۱۹۲۳ء)