خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 160

160 ہے جس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔گو اس کی ناراضگی نا جائز ہوتی ہے۔اور میں اس کے اس فعل کو جائز نہیں قرار دیتا۔مگر یہ نتیجہ ضرور نکالتا ہوں کہ اس کے دل میں سچی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹا ہو۔یا اس کے بچہ کو صحت ہو۔یا اسے مال مل جائے۔یا وہ رہا ہو جائے مگر جو شخص صراط مستقیم مانگتا ہے۔اور ہیں ہیں سال سے مانگتا چلا آتا ہے۔مگر اسے نہیں ملتی۔اور اس پر اسے کوئی دکھ اور گھبراہٹ بھی نہیں ہوتی۔تو کیا نتیجہ نکلا یہی کہ اسے اس کے لئے کچی خواہش نہیں ہوتی اور جب کچی خواہش نہیں ہوتی تو اللہ تعالی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اسے پورا کرے۔اس دعا کے قبول نہ ہونے پر اس کے دل میں دکھ، تکلیف اور تڑپ کا نہ ہونا ثبوت ہے اس امر کا کہ اس کے لئے اسے کچی خواہش نہیں تھی۔اور یہی وجہ اس کے قبول نہ ہونے کی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں میں اپنے موتی سوروں کے آگے نہیں ڈالتا ( متی و لوقا ) خدا تعالیٰ بھی ایسے نادانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔جن کے دل میں اس کے لئے کچی خواہش نہیں ہوتی۔ان کے دل میں سچی تڑپ ہوتی ہے کہ بیٹا ہو۔سچی تڑپ ہوتی ہے کہ مال مل جائے۔سچی تڑپ ہوتی ہے کہ مشکلات اور مصائب دور ہو جائیں۔اس لئے یہ دعائیں قبول ہو جاتی ہیں۔مگر اهدنا الصراط المستقیم کی دعا پڑھتے ہیں اور کچی خواہش اس کے لئے نہیں ہوتی۔اس لئے ہدایت نہیں ملتی۔یہ دعا اس لئے پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ الفاظ نماز میں رکھتے ہیں۔اگر آپ یہ الفاظ نماز میں نہ رکھ دیتے تو مہینوں اور سالوں گزر جاتے۔اور یہ الفاظ ان کی زبان پر نہ آتے۔پس نماز میں جب کوئی شخص اهدنا الصراط المستقیم کہتا ہے تو دراصل وہ نہیں کہہ رہا ہوتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہہ رہے ہوتے ہیں۔اگر پڑھنے والے کو یہ معلوم ہو کہ اگر میں نے یہ الفاظ نہ پڑھے تو بھی نماز ہو جائے گی تو وہ کبھی نہ پڑھتا۔مگر چونکہ مولویوں نے اسے سکھایا ہوا ہے کہ اگر کوئی یہ نہ پڑھے گا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔اس لئے وہ پڑھتا ہے۔نہ کہ ہدایت کی غرض اور خواہش کے لئے پڑھتا ہے۔اور جب تک کچی تڑپ نہیں ہوتی۔کوئی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔اگر اس کے لئے بھی ویسی ہی تڑپ ہو جیسی بیمار بچہ کے لئے ہوتی ہے کہ اچھا ہو جائے یا قید سے رہائی ہو جائے یا نقصان سے بچ جائے یا بیٹا پیدا ہو جائے یا کوئی عزیز اور رشتہ دار مل جائے یا اور خواہشات کے پورا ہونے کے متعلق ہوتی ہے۔تو ان دعاؤں سے بہت جلدی یہ دعا قبول کیونکہ یہی انسانی پیدائش کا مقصد ہے۔اتنی جلدی کوئی رہا نہ ہو۔جتنی جلدی اهدنا الصراط المستقیم کی دعا قبول ہو۔اتنی جلدی کسی کے ہاں بیٹا نہ ہو۔جتنی جلدی یہ دعا قبول ہو غرض کہ کوئی بھی اور دعا اتنی جلدی قبول نہ ہو۔جتنی جلدی یہ قبول ہو۔کیونکہ یہ عین خدا تعالی کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہے۔کیونکہ خدا نے انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ہدایت پائے اور ہو۔